Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 314

By Maulana Wahiduddin Khan

غلط نہی کو ماننے کا مزاج آدمی کی شخصیت کو بھی سخت نقصان پہنچاتا ہے۔ جو عورت یا مرد اس کمزوری کا شکار ہوں کہ وہ آسانی سے کسی کے بارے میں غلط نہی میں پڑ جائیں اور پھر اپنے ذہن کی صفائی نہ کریں وہ دھیرے دھیرے نہایت سطحی ہو جائیں گے۔ انسانوں کے لیے ان کے دل میں خیر خواہی نہیں ہوگی۔ وہ ایک غیر حقیقی دنیا میں جینے لگیں گے۔ اور جن لوگوں کا یہ حال ہو جائے وہ خدا کی اس دنیا میں کبھی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ غلط فہمی انسانی تعلقات کے لیے قاتل ہے۔ غلط فہمی سے دشمنیاں پیدا ہوتی ہے۔ غلط فہمی دو گروہوں کو لڑا دیتی ہے۔ غلط فہمی عظیم بربادیوں کا سبب بن جاتی ہیں۔ تاہم اس ہولناک برائی کا علاج نہایت آسان ہے۔ اور وہ تحقیق ہے۔ جب بھی آپ کو کسی کے بارے میں غلط فہمی پیدا ہو تو آپ فوراً اس کو مان نہ لیں بلکہ براہ راست ذرائع سے اس کی تحقیق کریں۔ اس کے بعد یقینی ہے کہ آپ کی غلط فہمی رفع ہو جائے گی اور آپ کی حفاظت گناہ سے بھی ہو جائے گی اور غلط اقدام سے بھی۔ غیبت نہیں يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ (49:12) ۔ اے ایمان والو، بہت سے گمانوں سے بچو۔ کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ اور ٹوہ میں نہ لگو۔ اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے ۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page