غیبت نہیں
Urdu book, p. 315
By Maulana Wahiduddin Khan
گا کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے۔ اس کو تم خود ناگوار سمجھتے ہو۔ اور اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ غیبت کا مطلب ہے، کسی کی غیر موجودگی میں اس کو برا کہنا۔ مذکورہ آیت میں غیبت کو مرے ہوئے انسان کا گوشت کھانے کے برابر بتایا گیا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ فعل اللہ کے نزدیک کتنا زیادہ برا اور کتنا زیادہ ناپسندیدہ ہے۔ موطأ امام مالک (کتاب الجامع) میں باب ماجاء فی الغیبتۃ کے تحت ایک روایت آئی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ غیبت کیا ہے۔ آپ نے فرمایا، یہ کہ تم کسی آدمی کا ذکر اس طرح کرو جس کو وہ ناپسند کرے اگروہ سنے۔ اس نے دوبارہ پوچھا کہ اے خدا کے رسول، اگرچہ بری بات واقعہ کے مطابق ہو۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تمہاری بات واقعہ کے خلاف ہو تو وہ بہتان ہے: أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: مَا الْغِيبَةُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: أَنْ تَذْكُرَ مِنْ الْمَرْءِ مَا يَكْرَهُ أَنْ يَسْمَعَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنْ كَانَ حَقًّا؟ قَالَ: إِذَا قُلْتَ بَاطِلًا فَذَلِكَ الْبُهْتَانُ (موطا مالک، حدیث نمبر 2083)۔ موجودہ زمانہ میں خواتین میں اور گھروں میں جو برائی سب سے زیادہ عام ہے وہ یہی ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ جہاں چند عورتیں اکٹھا ہوں گی وہ فوراً دوسروں کی شکایت کرنا شروع کر دیں گی، اس قسم کی شکایتوں ہی کا نام غیبت ہے، کسی کی غیر موجودگی میں اس کے خلاف اس کی برائی بیان کرنا، جب کہ وہ خود اس کی صفائی کرنے کے لیے موجود نہ ہو، یہی غیبت ہے اور یہ غیبت خواتین میں اتنا زیادہ پھیلی ہوئی ہے کہ بہت ہی کم ایسی خواتین ہوں گی جو اس برائی سے بچی ہوئی ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader