غیبت نہیں
Urdu book, p. 316
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا شبیر احمد عثمانی اس آیت کے تحت اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: اختلاف و تفریق باہمی کے بڑھانے میں ان امور کو خصوصیت سے دخل ہے۔ ایک فریق دوسرے فریق سے ایسا بد گمان ہو جاتا ہے کہ حسن ظن کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ مخالف کی کوئی بات ہو تو اس کا محمل اپنے خلاف نکال لیتا ہے۔ اس کی بات میں ہزارہا احتمال بھلائی کے ہوں اور صرف ایک پہلو برائی کا نکلتا ہو تو ہمیشہ اس کی طبیعت برے پہلو کی طرف چلے گی۔ اور وہ اسی برے اور کمزور پہلو کو قطعی اور یقینی قرار دے کر فریق مقابل پر تہمتیں اور الزام لگانا شروع کر دے گا۔ پھر نہ صرف یہ کہ ایک بات اتفاق سے پہنچ گئی تو بدگمانی سے اس کو غلط معنی پہنا دیے گئے، نہیں، وہ اس جستجو میں رہتا ہے کہ دوسری طرف کے اندرونی بھید معلوم ہوں جس پر ہم خوب حاشیے چڑھائیں اور اس کی غیبت سے اپنی مجلس گرم کریں۔ ان تمام خرافات سے قرآن منع کرتا ہے ۔ اگر مسلمان اس پر عمل کریں تو جو اختلافات بدقسمتی سے پیش آجاتے ہیں وہ اپنی حد سے آگے نہ بڑھیں اور ان کا ضرر بہت محدود ہو جائے۔ بلکہ چند روز میں نفسانی اختلافات کا نام و نشان باقی نہ رہے (تفسیر عثمانی، صفحہ 671) ۔ سورہ احزاب کی اس آیت کا خطاب عورتوں اور مردوں دونوں سے ہے کہ وہ گمان کی بنیاد پر ہرگز کسی کے بارے میں کوئی بری رائے قائم نہ کریں۔ کسی کے بارے میں اچھی رائے قائم کرنے میں اگر آپ غلطی کر جائیں تو اس سے خاندان یا سماج میں کوئی برائی پیدا نہیں ہوگی۔ لیکن اگر کسی کے بارے میں بری رائے قائم کر لی جائے تو وہ عظیم شرکا سبب بن سکتی ہے۔ اسی طرح غیبت اور شکایت کا نقصان بہت زیادہ ہے۔ جس گھر یا جس سماج میں لوگوں کا حال یہ ہو کہ وہ اپنی مجلسوں میں دوسروں کی برائی بیان کرتے ہوں وہاں لوگوں کے دل ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader