Urdu book · دینِ انسانیت

ہاجرہ— ام اسماعیلؑ

Urdu book, p. 318

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ سعی کی ہے جس کو تمام مسلمان، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، پوری وفاداری کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ یہ اسی عظیم خاتون ہاجرہ کے نقش کی پیروی ہے۔ حضرت ابراہیم نے ہاجرہ کو ان کے چھوٹے بچے کے ساتھ مکہ کے پاس صحرا میں ڈال دیا تھا۔ اس وقت ان کے پاس صرف ایک مشک پانی تھا۔ مشک جب خالی ہوگئی تو پانی کی تلاش میں وہ اس پہاڑی سے اس پہاڑی تک سات بار دوڑی تھیں ۔ ان کی یہ دوڑ ان کی عظیم قربانی کا ایک حصہ تھی۔ اللہ تعالیٰ کو یہ قربانی اتنا زیادہ پسند آئی کہ اس کو حج کے ارکان میں شامل کر دیا گیا اور دنیا بھر کے تمام مسلمانوں پر لازم کر دیا گیا کہ وہ جب حج یا عمرہ کے لیے مکہ آئیں تو اس خاتون کی تقلید میں صفا و مروہ کے درمیان دوڑیں۔ حضرت ہاجرہ کی قربانی سے ایک تاریخ کا آغاز ہوا۔ انہوں نے تاریخ کے سب سے بڑے انقلاب کی ابتدائی بنیاد رکھی۔ گویا کہ انسانی تاریخ میں ان کی حیثیت بانی انقلاب کی ہے۔ ان کی اسی قربانی کی بنا پر تمام انسانوں کو ان کے نقش قدم کی پیروی کا حکم دے دیا گیا۔ دور قدیم میں شرک کا رواج اتنا بڑھا کہ وہ تہذیب انسانی میں شامل ہو گیا۔ تمام لوگوں کی سوچ مشرکانہ سوچ بن گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک کے بعد ایک ہزاروں پیغمبر آئے جنہوں نے لوگوں کو توحید کی طرف بلایا۔ مگر انسانیت کا قافلہ اپنا راستہ بدلنے کے لیے تیار نہیں ہوا۔ اس سلسلہ میں آخری تجربہ حضرت ابراہیم کا تھا، انہوں نے قدیم عراق میں توحید کی دعوت دی۔ مگر لوگ فکری کنڈیشننگ کی وجہ سے شرک کے خلاف سوچنے کے لیے تیار نہ ہو سکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قدیم زمانہ میں توحید کی دعوت فکری مرحلہ میں باقی رہی، وہ انقلاب کے مرحلہ تک نہ پہنچ سکی۔ کیونکہ موحدانہ انقلاب برپا کرنے کے لیے انسانوں کی ایک ٹیم مطلوب تھی، اور لوگوں کے عدم ایمان کی وجہ سے ٹیم بننے کی نوبت نہیں آئی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page