Urdu book · دینِ انسانیت

ہاجرہ— ام اسماعیلؑ

Urdu book, p. 319

By Maulana Wahiduddin Khan

اب حضرت ابراہیم نے، وحی الہی کے مطابق، ایک نیا منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ کسی غیر آباد علاقہ میں ایک نسل تیار کی جائے۔ یہ نسل مشرکانہ تہذیب سے دور خالص فطرت کے ماحول میں پرورش پائے۔ تاکہ اس کی فطرت اپنی اصل حالت میں باقی رہے۔ اور پھر اس کے اندر توحید کی دعوت دے کر اس میں سے افراد کار تیار کیے جائیں جو توحید کی بنیاد پر عالمی انقلاب برپا کریں۔ اسی خاص منصوبہ کے تحت چار ہزار سال پہلے حضرت ہاجرہ کو ان کے شیر خوار بچہ اسماعیل کے ساتھ عرب کے صحرا میں بسایا گیا۔ اسماعیل جب بڑے ہوئے تو انہوں نے ایک مناسب لڑکی کی تلاش کر کے اس سے نکاح کیا۔ پھر ان کی اولاد کے ذریعہ یہاں ایک نسل بننا شروع ہوئی۔ توالد و تناسل کی صورت میں یہ سلسلہ صدیوں تک جاری رہا۔ اس طرح صحرا کے فطری ماحول میں جو انسانی نسل تیار ہوئی اسی کو بنواسماعیل کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد اپنے وقت پر ان کے درمیان محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب پیدا ہوئے۔ آپ نے ان لوگوں سے ایک طاقتور ٹیم تیار کی جس نے جدوجہد کر کے توحید کو فکری مرحلہ سے نکال کر انقلاب کے مرحلہ تک پہنچا دیا۔ اس عظیم منصوبہ کی ابتدا ایک مومنہ کی قربانی سے ہوتی ہے۔ حضرت ہاجرہؓ نے اپنے بچہ کے ساتھ مکہ کے صحرا میں آباد ہو کر اس خدائی منصوبہ کو واقعہ بنایا۔ حضرت ہاجرہؓ کے اسی عظیم رول کی بنا پر ایسا ہے کہ حج اور عمرہ میں تمام دنیا کے مسلمان اس عظیم خاتون کے نقش قدم پر چل کر صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا عمل انجام دیتے ہیں۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ عورت اگر عزم کرلے تو وہ کتنا بڑا رول ادا کر سکتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page