Urdu book · دینِ انسانیت

حضرت خدیجہ

Urdu book, p. 321

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد حضرت خدیجہ اٹھیں ۔ اپنے اوپر ایک چادر ڈالی اور اپنے چازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں ۔ ورقہ نے مسیحی مذہب اختیار کر لیا تھا اور تورات اور انجیل کا مطالعہ کیا تھا۔ حضرت خدیجہ نے جب ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غار حرا کا قصہ بتایا تو ورقہ نے فوراً کہا: اے خدیجہ ، اگر تو نے سچ کہا تو یہ آنے والا وہی ناموس اکبر تھا جو اس سے پہلے موسیٰ کے پاس آیا تھا۔ بیشک محمد اس امت کے پیغمبر ہیں (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 238؛ صحیح مسلم ، حدیث نمبر 160)۔ خدیجہ اب تک صرف آپ کی بیوی تھیں ۔ اب وہ نبوت کے کام میں آپ کی ساتھی بن گئیں۔ انہوں نے ہر طرح آپ کی مدد کی۔ اپنی ساری دولت آپ کے حوالے کر دی۔ آپ کے ساتھ ہر قسم کی مصیبتیں برداشت کیں ۔ شعب ابی طالب میں آپ کے ساتھ تین سال گزارے جو نا قابل بیان حد تک تکلیف دہ تھے۔ مگر ان سب کے باوجود کبھی ایک بار بھی اف کا کلمہ آپ کی زبان سے نہیں نکلا۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ مکہ میں ایک دن حضرت جبریل آپ کے پاس آئے اور کہا کہ اے خدا کے رسول ، یہ خدیجہ آپ کے پاس آ رہی ہیں۔ ان کے ساتھ ایک برتن ہے جس میں کچھ کھانا ہے۔ جب وہ آپ کے پاس آجائیں تو ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام پہنچا دیجیے اور میری طرف سے بھی۔ اور ان کو جنت میں ایک ایسے گھر کی بشارت دیجیے جو موتی کا بنا ہوا ہوگا، اس میں نہ کوئی شور ہوگا اور نہ کوئی تکلیف: بَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3820؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2433)۔ اس بشارت کا پس منظر یہ ہے کہ اس وقت مکہ میں قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page