Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 322

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی کے ساتھ حضرت خدیجہ کو سخت پریشان کر رکھا تھا، آپ کے مکان کے پاس آ کر شور کرتے۔ آپ کے راستہ میں کانٹا ڈالتے۔ آپ کو مختلف قسم کی تکلیفیں پہنچاتے۔ اس کے نتیجہ میں حضرت خدیجہ کی پرسکون اور پر مسرت زندگی بالکل برباد ہو گئی تھی۔ رسول اللہ سے نکاح ان کے لیے سادہ طور پر نکاح نہیں تھا بلکہ اپنے آپ کو مصیبتوں کے طوفان میں ڈال دینے کے ہم معنی تھا۔ اس وقت آپ کو مذکورہ بشارت دی گئی ۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے براہ راست آپ کو یہ خوش خبری دی گئی کہ دنیا میں لوگ اگر تم کو پریشان کر رہے ہیں تو اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ آخرت کی ابدی زندگی میں ہم نے تمہارے لیے ایسا پر راحت محل تیار کر رکھا ہے جو موتیوں اور جواہرات سے بنایا گیا ہو گا اور اس میں ہمیشہ کے لیے ایک ایسی پرسکون زندگی حاصل ہو گی جہاں نہ کسی کا شور داخل ہو گا اور نہ کوئی تکلیف دینے والا کبھی تم کو کوئی تکلیف پہنچا سکے گا۔ حضرت خدیجہ کو یہ انعام اس لیے دیا گیا کہ انہوں نے آنحضور کے ساتھ اس طرح وفادارانہ زندگی گزاری کہ کبھی کسی چیز کے لیے شکایت نہیں کی۔ آپ نے نبوت کا اعلان کیا تو کسی ہچکچاہٹ کے بغیر فوراً آپ کی تصدیق کی۔ آپ کے مشن میں آخر وقت تک وہ آپ کی ساتھی بنی رہیں۔ حضرت عائشہ حضرت عائشہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں۔ ہجرت سے آٹھ سال پہلے مکہ میں پیدا ہوئیں۔ 66 سال کی عمر میں 58ھ میں انتقال کیا۔ حضرت خدیجہ کے انتقال کے بعد خولہ بنت حکیم نے آپ کی طرف سے حضرت ابو بکر کو نکاح کا پیغام دیا۔ حضرت ابو بکرؓ نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page