حضرت عائشہ
Urdu book, p. 323
By Maulana Wahiduddin Khan
کہا کہ اس سے پہلے مطعم بن عدی اپنے بیٹے جبیر سے عائشہ کے نکاح کا پیغام دے چکے ہیں۔ اس کو میں نے منظور بھی کر لیا ہے۔ اور خدا کی قسم ابو بکر نے کبھی کسی وعدہ کے خلاف نہیں کیا (وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَ وَعْدَ ا قَطُّ ) ۔ حضرت ابو بکر صدیق اس کے بعد مطعم کے یہاں جا کر اس سے ملے۔ اس سے پوچھا کہ عائشہ سے اپنے بیٹے کے نکاح کی بابت تمہارا کیا خیال ہے۔ مطعم نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس معاملہ میں تم کیا کہتی ہو۔ بیوی نے حضرت ابو بکر سے مخاطب ہو کر کہا کہ تم سے رشتہ کرنے میں مجھ کو یہ اندیشہ ہے کہ کہیں میرا لڑکا صابی (بے دین ) ہو جائے اور اپنا آبائی مذہب چھوڑ کر تمہارے مذہب (اسلام) میں داخل ہو جائے۔ ابو بکر دوبارہ مطعم بن عدی سے مخاطب ہوئے اور پوچھا کہ اے مطعم ، تم کیا کہتے ہو۔ مطعم نے جواب دیا کہ میری بیوی نے جو کچھ کہا وہ آپ نے سن لیا۔ اس طرح مطعم اور اس کی بیوی دونوں نے رشتہ سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد حضرت ابو بکر نے سمجھ لیا کہ وعدہ کی ذمہ داری ان کے اوپر نہیں ہے۔ اب حضرت ابو بکر نے خولہ سے کہہ دیا کہ تمہارا پیغام مجھے منظور ہے ( دلائل النبوة للبيهقى، جلد 2 ، صفحہ 412-411 )۔ اس کے بعد مقررہ وقت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر کے مکان پر گئے، وہاں عائشہ سے آپ کا نکاح ہوا۔ مہر چار سو درہم مقرر ہوا (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد 8 ، صفحہ 63 )۔ اس واقعہ میں یہ سبق ہے کہ معاشرتی معاملات میں اگر کبھی کوئی بات ٹوٹ جائے تو اس سے دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے بعد کوئی نیا خیر نکلنے والا ہو۔ چنانچہ سردار مکہ کے لڑکے سے عائشہ کا رشتہ ٹوٹا، مگر اس کے بعد انہیں پیغمبر اعظم کی بیوی بننے کا شرف حاصل ہوا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader