Urdu book · دینِ انسانیت

حضرت عائشہ

Urdu book, p. 324

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت عائشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت چھوٹی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی وفات کے بعد وہ تقریباً 50 سال تک زندہ رہی۔ اس نامساوی نکاح کی مصلحت یہ تھی کہ عائشہؓ بے حد ذہین تھیں۔ ان کے اندر اخذ (grasp) کی بے پناہ صلاحیت تھی۔ اس نکاح نے ان کی خداداد صلاحیت کو سارے عالم کے لیے مفید بنا دیا۔ حضرت عائشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تقریباً دس سال رہیں۔ اس مدت میں انہوں نے رات دن آپ کو دیکھا اور آپ کی تمام باتیں سنیں۔ اس طرح علم دین اور حکمت اسلام کا بہت بڑا ذخیرہ ان کے دماغ میں جمع ہو گیا۔ رسول اللہ کی وفات کے بعد انہوں نے اس علم نبوی کو امت تک پہنچایا۔ وہ تقریباً نصف صدی تک زندہ ٹیپ ریکارڈ بنی رہیں۔ حافظ ابن حجر (1449-1372ھ) ان کی بابت لکھتے ہیں کہ عائشہ کی پیدائش ہجرت سے تقریباً آٹھ سال پہلے ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو وہ تقریباً 18 سال کی تھیں۔ انہوں نے آپ سے بہت سی باتیں یاد رکھیں اور آپ کے بعد تقریباً 50 سال تک زندہ رہیں۔ لوگوں نے ان سے بہت زیادہ باتیں اخذ کیں۔ اور احکام و آداب میں سے بہت سی چیزیں ان سے نقل کیں۔ یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ احکام شریعت کا چوتھائی حصہ ان سے نقل کیا گیا ہے۔ ان کی وفات امیر معاویہ کی خلافت کے زمانہ میں 58ھ میں ہوئی (فتح الباری جلد 7، صفحہ 134)۔ حضرت عائشہؓ سے اقوال رسولؐ بہت زیادہ منقول نہیں ہیں۔ ان کی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات کو نہایت غور سے سنا۔ آپ کے ہر عمل کو نہایت توجہ سے دیکھا اور پھر اپنی خداداد ذہانت سے اس کی حکمتیں معلوم کیں۔ ان کا کلام اسلامی حکمت اور معرفت کا خزانہ ہے۔ مثال کے طور پر انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page