دینِ انسانیت
Urdu book, p. 325
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب فرماتے تھے: مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَمْرَيْنِ فِي الْإِسْلَامِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا (صحيح البخاری، حدیث نمبر 3560؛ مسند احمد، حدیث نمبر 24549)۔ ان کے اس ایک قول میں معانی کا خزانہ چھپا ہوا ہے۔ حضرت عائشہ نے اپنی ذہانت کو خالص اسلام کے لیے استعمال کیا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے زہد کو اپنا شعار بنایا۔ بعد کے زمانہ میں آپ کے پاس کثرت سے مال آتا تھا۔ مگر آپ سارا مال لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیتی تھیں اور خود نہایت سادہ زندگی گزارتی تھیں۔ ایک بار حضرت عبداللہ بن زبیر نے ان کے پاس ایک لاکھ 80 ہزار درہم بھیجے۔ آپ نے سارا درہم شام تک خیرات کر دیا۔ جبکہ اس دن آپ روزہ سے تھیں اور گھر میں روٹی اور زیتون کے تیل کے سوا کوئی اور چیز موجود نہ تھی۔ خادمہ نے کہا کہ آپ کچھ درہم بچا کر گوشت منگا لیتیں تو اچھا ہوتا۔ فرمایا کہ تم نے پہلے یاد دلایا ہوتا تو منگا لیتی (طبقات ابن سعد، جلد 10، صفحہ 66)۔ یہ زہد ہی حکمت کا دروازہ ہے۔ جو یہ چاہتا ہو کہ خدائی معرفت اور اسلامی حکمت کا چشمہ ان کے ذہن میں جاری ہو اس کو اس دنیا میں مادی چیزوں سے بے رغبت ہو کر رہنا ہوگا۔ ایمان کی طاقت شیخ حمید الدین ابو حاکم قریشی (737-570ھ) ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جو کیچ اور مکران کے علاقہ پر حکومت کر رہا تھا۔ اپنے والد سلطان بہاء الدین کے انتقال کے بعد وہ تخت سلطنت پر بیٹھے اور 21 سال تک شان وشوکت کے ساتھ حکومت کی۔ ”ذکرِ کرام“ میں ان کے واقعات کے ذیل میں لکھا ہے کہ شیخ حمید الدین کے ساتھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader