Urdu book · دینِ انسانیت

ایمان کی طاقت

Urdu book, p. 326

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک چھوٹا سا واقعہ پیش آیا جس نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا اور ’’سلطان‘‘ کے بجائے ان کو ’’شیخ‘‘ بنا دیا۔ شیخ حمید الدین اپنی حکومت کے زمانہ میں دوپہر کو اپنے ایک باغ میں قیلولہ کیا کرتے تھے۔ اس باغ میں ان کا ایک محل تھا۔ اس محل کی نگرانی نونیت نامی ایک مسلم خادمہ کے سپرد تھی۔ اس مسلم خادمہ کے ذمہ یہ کام تھا کہ ہر روز وقت پر وہ بستر بچھا دے تا کہ شیخ حمید الدین آ کر اس پر آرام کر سکیں۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک روز شیخ کے آنے سے پہلے خادمہ نے بستر بچھایا تو اس کو بستر بہت اچھا لگا۔ وہ اس پر کچھ دیر کے لیے لیٹ گئی۔ ابھی وہ بستر سے اٹھی نہیں تھی کہ اس کو نیند آگئی۔ شیخ حمید الدین جب معمول کے مطابق آرام کرنے کے لیے محل پہنچے تو دیکھا کہ خادمہ نونیت بستر پر پڑی سورہی ہے۔ سلطان کے بستر پر خادمہ کو سویا ہوا دیکھ کر انہیں غصہ آگیا۔ انہوں نے حکم دیا کہ اس گستاخی پر خادمہ کو سو کوڑوں کی سزا دی جائے۔ حکم کی فوراً تعمیل ہوئی اور خادمہ کو کوڑے مارے جانے لگے۔ مگر یہ عام قسم کی خادمہ نہیں تھی۔ بلکہ وہ مومنہ اور مسلمہ تھی۔ چنانچہ شیخ حمید الدین کو یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ خادمہ آہ و واویلا نہیں کر رہی ہے، بلکہ ہر کوڑے پر ہنس پڑتی ہے۔ انہوں نے سزا کو روک کر خادمہ کو بلایا اور اس سے خلاف معمول ہنسنے کی وجہ پوچھی۔ خادمہ نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا: ’’مجھے خیال آیا کہ جب اس نرم بستر پر ایک بے اختیارانہ نیند کی یہ سزا ہے تو ان لوگوں کا انجام کیا ہوگا جو روزانہ اس نرم بستر پر آرام کرتے ہیں۔‘‘ خادمہ کے اس جواب کا سلطان حمید الدین پر اتنا اثر ہوا کہ ان کی زندگی بالکل بدل گئی۔ وہ سلطان کے بجائے شیخ بن گئے۔ وہ دنیا اور اس کی لذتوں سے بے رغبت ہو گئے۔ یہاں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page