Urdu book · دینِ انسانیت

ایمان کی طاقت

Urdu book, p. 327

By Maulana Wahiduddin Khan

تک کہ درویشی کی زندگی اختیار کر لی۔ سلطنت چھوڑ کر شیخ حمید الدین لاہور آئے۔ یہاں حضرت سید احمد توختہ (جو ان کے نانا بھی ہوتے تھے) کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کے ہاتھ پر طریقہ شطاریہ میں بیعت کی اور ریاضتوں اور مجاہدوں کے بعد ان کی خلافت حاصل کی۔ شیخ حمید الدین نے 167 سال کی عمر پائی۔ آخر عمر میں وہ اُچ اور سکھر کے درمیانی علاقہ میں تبلیغ و ارشاد کا کام کرتے رہے۔ اس علاقہ میں بہت سے لوگ ان کے ہاتھ پر ایمان لائے (تذکرہ صوفیاء پنجاب از اعجاز الحق قدوسی، صفحہ 242-240)۔ ایک عورت اگر صحیح معنوں میں ایمان اور اسلام پر ہو تو وہ خادم نہ ہو کر بھی مالک سے زیادہ طاقتور ہو جاتی ہے۔ اس کا ایک جملہ بادشاہ کو تڑپانے کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ اسلام کی تاریخ میں ایسی خواتین بہت ہیں جنہوں نے اپنے ایک مومنانہ کلمہ سے بڑے سے بڑے لوگوں کی زندگیاں بدل دیں۔ بنو عباس کے آخری زمانہ میں تاتاریوں نے مسلم دنیا کو پامال کر ڈالا۔ ایک مورخ کے الفاظ میں: اسلام کی تاریخ میں کوئی واقعہ ایسا نہیں ہے جس کا مقابلہ دہشت انگیزی اور غارت گری میں تاتاری حملے سے کیا جاسکے۔ جس طرح کسی پہاڑ سے بہت بڑا تودہ کسی بستی پر آگرے اسی طرح تاتاریوں کے وحشی لشکر اسلامی تہذیب و تمدن کے مرکزوں پر ٹوٹ پڑے اور اپنے پیچھے ویران صحرا اور بھیانک کھنڈر کے سوا کچھ اور نہیں چھوڑا۔ جیسا کہ معلوم ہے، یہ الم ناک حادثہ دوبارہ اس طرح بدلا کہ وحشی تاتاری اسلام قبول کر کے اسلام کے حامی اور پاسباں بن گئے۔ یہ انقلابی واقعہ جن لوگوں کے ذریعہ انجام پایا ان میں بڑی تعداد عورتوں کی تھی۔ تاتاریوں نے مسلم دنیا کو تاراج کرنے کے بعد مردوں کو قتل کیا اور عورتوں کو لونڈی بنا لیا۔ یہ خواتین جو تاتاری گھروں میں زبردستی داخل کی گئی تھیں،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page