تین مرحلے
Urdu book, p. 333
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کا ترجمہ پڑھنا چاہیے اور بار بار اس کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ قرآن کی حیثیت دین میں اساس کی ہے۔ قرآن کی تعلیمات سے واقفیت کے بغیر دین کا فہم و ادراک ممکن نہیں۔ اس کے بعد عورت کو احادیث کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اگر وہ عربی زبان جانے اور عربی میں پڑھ سکے تو زیادہ بہتر ہے، ورنہ آج ہر زبان میں حدیث اور سیرت پر کتابیں موجود ہیں۔ اس کو چاہیے کہ اپنی زبان میں اس موضوع پر کتابیں حاصل کرے اور اہتمام کے ساتھ ان کا مطالعہ کرے۔ اس کے بعد صحابہ کے حالات اور دوسری دینی شخصیتوں کے حالات کا معاملہ ہے۔ ان پر بھی ہر زبان میں کثرت سے کتابیں موجود ہیں۔ ہر عورت کے لیے ضروری ہے کہ ان کتابوں کو اپنے حالات کے اعتبار سے پڑھے اور اس میں پوری آگہی حاصل کرے۔ عورت کی زندگی کا دوسرا مرحلہ وہ ہے جب کہ اس کا نکاح ہوتا ہے اور وہ کسی مرد کی بیوی بن کر نئے گھر میں منتقل ہوتی ہے۔ اس دوسرے دورِ حیات میں اس کی جو ذمہ داریاں ہیں اس کو ایک لفظ میں خانہ آبادی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اب عورت محض ایک فرد نہیں رہی، وہ سماج کا ایک ایسا جز ء بن جاتی ہے جس کے بغیر نہ وہ خود مکمل ہے اور نہ سماج۔ خانہ آبادی کے اس دور میں عورت کو جس طرح رہنا ہے، اس کو ایک لفظ میں حسن معاشرت کہا جاسکتا ہے۔ قرآن میں مردوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم عورتوں کے ساتھ اچھی طرح گزر کرو (وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ)، اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو مگر اللہ نے اس میں تمہارے لیے بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو (4:19)۔ یہ بات جو مردوں سے کہی گئی وہی عورتوں سے متعلق بھی ہے۔ عورت کو بھی اسی ذہن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader