Urdu book · دینِ انسانیت

تین مرحلے

Urdu book, p. 334

By Maulana Wahiduddin Khan

کے ساتھ اپنا گھر بسانا ہے کہ خانہ آبادی میں حاصل اہمیت ذاتی پسند ناپسند کی نہیں ہے بلکہ مجموعی انسانی فلاح کی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ذاتی اعتبار سے ایک چیز آپ کو پسند نہ آتی ہو مگر مجموعی انسانیت کے اعتبار سے اس میں خیر ہو۔ اس لیے گھر کے اندر ناموافق باتوں کو نبھاتے ہوئے ہنسی خوشی زندگی گزارنا ہے۔ تیسرا مرحلہ وہ ہے جب کہ عورت ماں بن جاتی ہے۔ اب اس کی ذمہ داریوں کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے۔ یعنی اگلی نسل کی تیاری میں اپنا حصہ ادا کرنا۔ ہر گھر یا خاندان گویا کہ وسیع تر انسانیت کی ایک اکائی ہے۔ اکائیوں کی درستگی سے مجموعہ درست ہوتا ہے۔ اب عورت کو یہ کرنا ہے کہ اپنی اکائی کو درست کرنے میں لگ جائے تا کہ وسیع تر انسانی معاشرہ درست معاشرہ بن سکے۔ عورت کو اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دینا ہے۔ اس کو اعلیٰ انسانی اخلاق سکھانا ہے۔ اس کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنے گھر میں اور اپنے سماج میں ایک شریف اور دیانت دار انسان کی حیثیت سے رہ سکے۔ عورت کو اپنی اولاد کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ دنیا میں انسانوں کے حقوق ادا کرنے والے بنیں، اور آخرت میں خدا کی رضا کے مستحق قرار پائیں۔ عربی کا مقولہ ہے: التَّعْلِيمُ فِي الصِّغَرِ كَالنَّقْشِ فِي الْحَجَرِ۔ یعنی ،کم عمری کی تعلیم پتھر میں نقش کی مانند ہے (فتح الباری، جلد 8، صفحہ 702) بچہ میں یہ حجری نقش بنانا ماں ہی کا کام ہے۔ اگر عورت اس امکان کو پوری طرح استعمال کرے تو اس کی آغوش میں پلا ہوا بچہ ایک ایسا انسان بن کر ابھرے گا، جو انسانی دنیا کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہو نہ کہ کوئی بوجھ۔ وہی عورت کامل عورت ہے جو ان تینوں ذمہ داریوں میں پوری اترے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page