ظاہر داری نہیں
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کو الاُّ ولان پڑھا ہے، اور ابنِ سیرین نے اس کو الا وَّلین پڑھا ہے (القرطبی 6/359)۔ ایک بار ایسا ہوا کہ حضرت ابی بن کعب نے یہ آیت پڑھی اور الاولیان کی قرات اپنے لحاظ سے کی جو کہ خلیفہ دوم عمر فاروق کی قرات سے مختلف تھی، حضرت عمر نے اس کو سن کر کہا کہ تم نے جھوٹ کہا (کذبت) حضرت کعب نے جواب میں کہا کہ تم خود زیادہ بڑے جھوٹے ہو (انت اکذب) ایک شخص نے اس کو سن کر حضرت کعب سے کہا کہ تم امیر المومنین کو جھوٹا کہہ رہے ہو۔ انھوں نے کہا کہ میں تم سے زیادہ امیر المومنین کے حق کی تعظیم کرتا ہوں ۔ لیکن میں نے ان کو اللہ کی کتاب کی تصدیق کے معاملہ میں جھٹلایا ہے، میں نے اللہ کی کتاب کی تکذیب کے معاملہ میں امیر المومنین کی تصدیق نہیں کی۔ حضرت عمر فاروق نے کہا کہ انھوں نے ٹھیک کہا (تاریخ المدینہ لابن شبہ، جلد 2 ، صفحہ 709)۔ یہ گفتگو دو بڑے صحابی کے درمیان ہوئی۔ معترض صحابی نے ایسا نہیں کیا کہ وہ مختلف قرآت سن کر یہ کہتے کہ: يَا فَضِيلَةَ الْأُسْتَاذُ، اِسْمَحْ لِي، لَعَلَّكَ أَخْطَأْتَ فِي الْقِرَاءَةِ۔ بلکہ اپنی اندرونی کیفیت کے مطابق ، بے تکلف ان کی زبان سے نکلا کہ: کذبت (تم نے جھوٹ کہا)۔ اس واقعہ سے ایک اہم اصول اخذ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اظہارِ رائے کی آزادی کسی شرط کے بغیر ہونی چاہیے۔ شرط عائد کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگوں کے دل میں کچھ ہو اور الفاظ کے ذریعہ اس کا اظہار وہ کچھ اور انداز میں کریں۔ یہ طرزِ کلام دھیرے دھیرے لوگوں کے اندر ظاہر داری پیدا کرے گا، اور ظاہر داری آخر کار ریا کاری کی صورت اختیار کرلے گی۔ ایک بات جس کو آدمی حق سمجھے، فطری طور پر وہ اس کو بے کم و کاست ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ اگر اس کے اوپر مصنوعی پابندی لگائی جائے تو وہ شدید تر نقصان کا باعث بن جائے گی۔ وہ لوگوں کے اندر دوہرا شخصیت کی تشکیل کرے گی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader