دلیل نبوت
Urdu book, p. 345
By Maulana Wahiduddin Khan
اس مقصد کے لیے آپ کا مقابلہ ان شہنشاہیتوں کے ساتھ پیش آنے والا تھا۔ چنانچہ تاریخی اعتبار سے آپ کا ظہور انتہائی موزوں وقت میں ہوا۔ یہی وہ وقت ہے کہ رومیوں اور ایرانیوں کے درمیان پچیس سالہ جنگ (628-603ء) پیش آئی۔ یہ دونوں اپنے زمانہ میں ناقابل تسخیر طاقت ور سلطنتیں تھیں۔ مگر پیغمبر اسلام کی بعثت حیرت انگیز طور پر عین اس زمانہ میں ہوئی جب کہ دونوں سلطنتیں آپس میں لڑ کر تباہ ہو چکی تھیں۔ یہی واقعہ ہے جس کی طرف قرآن کی سورہ نمبر 30 میں اشارہ کیا گیا ہے: غُلِبَتِ الرُّوْمُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ (30:2-3)۔ یعنی، رومی مغلوب ہو گئے۔ پاس کے علاقہ میں اور وہ اپنی مغلوبیت کے بعد عنقریب غالب ہوں گے۔ پیغمبر اسلام کی پیدائش کے بعد 603ء میں ایران نے رومی سلطنت پر حملہ کر دیا۔ تباہ کن جنگ کے بعد رومیوں کو شکست ہوئی۔ یہاں تک کہ 616ء میں یروشلم سمیت رومن ایمپائر کی مشرقی سلطنت کا بڑا حصہ ایرانیوں کے قبضہ میں چلا گیا۔ اس کے بعد قیصر روم کے اندر نیا حوصلہ پیدا ہوا۔ اس نے تیاری کر کے 623ء میں ایران کے اوپر جوابی حملہ کیا۔ 624ء میں اس نے ایران پر فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ 627ء میں اس نے اپنے مقبوضہ علاقے دوبارہ ایرانیوں سے واپس لے لیے۔ تاہم ان دوطرفہ لڑائیوں میں دونوں عظیم سلطنتوں کی طاقت ٹوٹ گئی۔ دونوں کمزور ہو کر رہ گئیں۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ پیغمبر اسلام کا ظہور ہوا۔ آپ نے اور آپ کے بعد آپ کے اصحاب نے دونوں سلطنتوں سے ٹکر لی اور دونوں کو توڑ کر تاریخ میں ایک نئے دورِ آزادی کا آغاز کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader