دلیل نبوت
Urdu book, p. 346
By Maulana Wahiduddin Khan
انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) میں بازنطینی ایمپائر (Byzantium Empire) کے نام سے 26 صفحہ کا ایک مقالہ شامل ہے۔ اس کے مصنف بازنطینی تاریخ کے ایک ایکسپرٹ پروفیسر نکل (Donald MacGillivray Nicol) ہیں۔ مسلم عہد کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں: 632ء میں پیغمبر کی وفات کے بعد خلفا نے عرب بدوؤں کی طاقت کا رخ ایک با مقصد اور منظم منصوبہ فتح کی طرف موڑ دیا۔ نتیجہ نہایت شاندار نکلا۔ 636ء میں بازنطینی فوج کو دریائے یرموک کے کنارے ایک جنگ میں شکست ہوئی۔ اس کے بعد فلسطین اور شام کا دروازہ عربوں کے لیے کھل گیا۔ اسکندریہ نے 642ء میں ہتھیار ڈال دیا اور پھر ہمیشہ کے لیے مصر کا صوبہ بازنطینیوں کے اقتدار سے نکل گیا۔ اسی درمیان عربوں نے میسوپوٹامیا کے علاقہ میں پیش قدمی کی اور جلد ہی ایرانی فوج کو شکست دے کر ان کی راجدھانی کو فتح کر لیا۔ اس طرح ایرانی شہنشاہیت کی لمبی تاریخ ختم ہو گئی۔ اس وقت کی بازنطینی سلطنت اور ایرانی سلطنت کے کم از کم تین پہلوؤں نے عربوں کے لیے اس شاندار کامیابی کو آسان بنا دیا، جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے دشمنوں پر فتح حاصل کی۔ اول، دونوں سلطنتیں جنگوں کے نتیجہ میں بالکل ختم ہو چکی تھیں اور 632ء سے پہلے انہوں نے اپنی فوجوں کو گھٹا دیا تھا۔ دوم، دونوں ہی سلطنتیں عرب سرحد پر اپنی ماتحت حکومتوں کی مدد بند کر چکی تھیں جنہوں نے پچھلی ایک صدی سے صحرائی بدوؤں کو آگے بڑھنے سے روک رکھا تھا۔ سوم، اور خاص طور پر بازنطینیوں کے معاملہ میں مذہبی اختلافات جنہوں نے شامیوں اور مصریوں کی قسطنطنیہ کے ساتھ وفاداری کو کمزور کر دیا تھا: At least three aspects of the contemporary situation of Byzantium and Persia account for the phenomenal ease with which the Arabs overcame their enemies:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader