Urdu book · دینِ انسانیت

سوال و جواب

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

سوال وجواب حضرت علی بن ابی طالب ضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ میں مسلمانوں کا ایک طبقہ آپ کا باغی ہو گیا۔ اس نے زبردست خلفشار برپا کیا۔ دولڑائیاں ہوئیں جن میں تقریباً چالیس ہزار مسلمان مارے گئے۔ حتی کہ خود حضرت علی کو شہید کر دیا گیا۔ اس خلفشار کے زمانہ میں آپ کے مخالف گروہ کا ایک آدمی آپ سے ملا۔ اس نے آپ سے کچھ ناقدانہ سوالات کیے ۔ اس نے کہا کہ ایسا کیوں ہے کہ آپ کی خلافت کے زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان اتنا اختلاف وانتشار پیدا ہو گیا۔ حالاں کہ ابو بکر و عمر خلیفہ تھے تو ان کے زمانہ میں اس طرح کے اختلافات برپا نہیں ہوئے۔ حضرت علی نے جواب دیا: لِأَنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانَا وَالِيَيْنِ عَلَى مِثْلِي وَأَنَا الْيَوْمَ وَالٍ عَلَى مِثْلِكَ ( مقدمہ ابن خلدون، صفحہ (211)۔ اس لیے کہ ابو بکر و عمر میرے جیسے لوگوں کے اوپر حاکم تھے اور میں آج تمہارے جیسے آدمی کے اوپر حاکم ہوں۔ اس اعتراض و جواب سے ایک اہم حقیقت واضح ہو کر سامنے آ گئی۔ وہ یہ کہ صحیح اسلامی حکومت کے قائم ہونے کی سب سے اہم شرط کیا ہے۔ وہ شرط یہ ہے کہ سماج کے اندر واضح طور پر اس کے موافق حالات موجود ہوں۔ حضرت علی کے جواب کے الفاظ میں یہ کہنا درست ہوگا کہ صالح سیاسی نظام کے قیام کی شرط یہ ہے کہ ایک طرف صدر ریاست کی کرسی پر ابو بکر و عمر جیسا ایک فرد بیٹھا ہوا ہو، اور دوسری طرف معاشرہ پر اصحاب رسول جیسے لوگوں کا غلبہ ہو۔ خلافت مثل عمر کے ہاتھ میں ہو اور معاشرہ امثال علی پر مشتمل ہو۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کے دور اول میں کس طرح یہ ماحول تھا کہ ایک عام آدمی وقت کے خلیفہ سے براہ راست ناقدانہ سوال کر سکتا تھا اور خلیفہ معتدل انداز میں اس کا جواب دیتا تھا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب معاشرہ میں سوال وجواب کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page