Urdu book · دینِ انسانیت

دلیل نبوت

Urdu book, p. 352

By Maulana Wahiduddin Khan

اوپر جو آیت ہم نے نقل کی ہے کہ اللہ کو معلوم ہے کہ وہ اپنی پیغمبری کو کہاں رکھے (الانعام، 6:124)۔ اسی کا ایک پہلو یہ تھا کہ پیغمبر کی جائے پیدائش اور مقام عمل کے لیے اس جگہ کا انتخاب کیا جائے جہاں اس کو پہلے ہی مرحلہ میں اعلیٰ صلاحیت کے مردان کار مل سکیں۔ ظہور محمدی کے زمانہ کو دیکھیے تو بظاہر عرب کا ملک اس مقصد کے لیے سب سے زیادہ غیر اہم نظر آتا ہے۔ اس وقت عربوں کی تصویر دنیا کی نظر میں کیا تھی، اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ فردوسی اپنے شاہنامہ میں ان کے بارے میں لکھتا ہے کہ اے آسمان تجھ پر افسوس ہے کہ اونٹ کا دودھ پینے والے اور گوہ کا گوشت کھانے والے عربوں کا معاملہ اب یہاں تک پہنچا ہے کہ وہ ایرانی تخت کی آرزو کر رہے ہیں: زشیر شتر خوردن و سوسمار عرب را بجائے رسید است کار که تخت کیاں را کنند آرزو تفوبر تو اے چرخ گرداں تفو اس وقت صرف خدا ہی جان سکتا تھا کہ اس بظاہر غیر اہم قبائلی مجموعہ کے اندر ایک عظیم قوم بننے کے امکانات چھپے ہوئے ہیں۔ مارگولیتھ نے عربوں کو ہیروز کی ایک قوم (a nation of heroes) کہا ہے۔ مگر یہ اعتراف واقعہ کے ظہور میں آنے کے بعد کا ہے۔ ظہور واقع سے پہلے صرف خدا ہی یہ جان سکتا تھا کہ عرب قوم کے اندر کیا امکانی اوصاف چھپے ہوئے ہیں۔ ان عربوں میں دوسری غیر معمولی صفات کے ساتھ ایک انوکھی صفت یہ تھی کہ وہ ہر قسم کے تعصب سے خالی تھے۔ ان کے مزاج میں یہ چیز رچی بسی ہوئی تھی کہ وہ حق کا فوراً اعتراف کر لیں ۔ ان کی اسی صلاحیت کی بنا پر یہ ممکن ہوا کہ پیغمبر کی زندگی ہی میں ایک لاکھ سے زیادہ آدمی آپ پر ایمان لا کر آپ کے ساتھی بن گئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page