دلیل نبوت
Urdu book, p. 353
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب میں مبعوث کرنا کوئی سادہ بات نہیں تھی۔ یہ ایک انتہائی اعلیٰ منصوبہ بندی کا معاملہ تھا۔ اس میں منصوبہ ساز کو یہ جاننا تھا کہ ساری دنیا میں وہ کون سا مخصوص مقام ہے جو پیغمبر اسلام کو اپنا کام شروع کرنے کے لیے موزوں ترین ہے۔ نہ صرف پیغمبروں کی تاریخ بلکہ کوئی تخلیقی نظریہ پیش کرنے والے ہر آدمی کی تاریخ بتاتی ہے کہ معاصر زمانہ میں بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اس کے پیغام کو گہرائی کے ساتھ سمجھیں اور اس کے زمانہ ہی میں اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہو جائیں۔ عرب جیسی قوم میں مبعوث کرنے ہی کی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ اپنی زندگی ہی میں پیغمبر اسلام کو کثیر تعداد میں ایسے ساتھی مل گئے جو مطلوبہ انقلاب کے لیے جہاد عظیم کر سکیں۔ یہ واقعہ اتنا اہم اور اتنا زیادہ استثنائی تھا کہ بائبل میں اس کے بارے میں پیشگی خبر دے دی گئی۔ بائبل (کتاب استثنا) میں ہے کہ مرد خدا موسیٰ نے جو دعائے خیر دے کر اپنی وفات سے پہلے بنی اسرائیل کو برکت دی وہ یہ ہے کہ اور اس نے کہا: خداوند سینا سے آیا۔ اور شعیر سے ان پر آشکارا ہوا۔ وہ کوہ فاران سے جلوہ گر ہوا۔ وہ دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا: And he came with ten thousands of saints. (Deuteronomy 33:2) بائبل کی اس آیت میں سینا سے آنے والے حضرت موسیٰ ہیں۔ شعیر سے آنے والے حضرت مسیح ہیں اور فاران سے آنے والے سے مراد پیغمبر اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ان کے ساتھ یہ انوکھا واقعہ پیش آیا کہ وہ آغاز نبوت کے صرف 20 سال بعد دس ہزار صحابہ کے ساتھ فاتحانہ طور پر مکہ میں داخل ہوئے: He received his prophetic call in about 610, and in january 630 he entered Mecca with 10,000 men. (Encyclopedia Britannica, Vol. 7, p. 84)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader