دینِ انسانیت
Urdu book, p. 354
By Maulana Wahiduddin Khan
سیرت کی رہنمائی ڈاکٹر مائیکل ہارٹ (پیدائش 1932) نے پیغمبر اسلام کو تاریخ کا سپریملی سکسس فل انسان بتایا ہے۔ مگر آپ کی حیثیت ایک ہیرو کی نہیں تھی بلکہ ایک رہنما کی تھی۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آپ نے دراصل اپنی زندگی سے ہر زمانہ کے انسان کو سپریم سکسس (supreme success) کا راز بتایا ہے۔ آپ اگر ایک طرف اعلیٰ ترین کامیاب انسان تھے تو دوسری طرف آپ کی زندگی حصولِ کامیابی کے لیے اعلیٰ ترین معیار (super model) کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس مضمون میں اسی حیثیت سے آپ کی سیرت کا مختصر مطالعہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ممکن سے آغاز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو اس وقت عرب میں مختلف مسائل تھے_ کعبہ میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ رومن ایمپائراور ساسانی ایمپائر نے عرب میں سیاسی نفوذ حاصل کر رکھا تھا۔ معاشرہ میں سود، زنا، شراب خوری جیسے جرائم پھیلے ہوئے تھے۔ مگر قرآن میں آپ کے اوپر پہلا حکم اترا تو وہ یہ نہیں تھا کہ (طَهِّرِ الْكَعْبَةَ مِنَ الْأَصْنَامِ يَا قَاتِلِ الْفُرْسِ وَالرُّومَانِ، يَا نَافِذَ حُدُودِ اللَّهِ عَلَى الْمُجْرِمِينَ)۔ اس کے برعکس، آپ کے اوپر پہلا حکم جو اتارا گیا وہ قرات اور تعلیم کے بارے میں تھا: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ - خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ ۔ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ - الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ - عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ (96: 1-5)۔ یعنی، پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ پیدا کیا انسان کو علق سے۔ پڑھ اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader