دینِ انسانیت
Urdu book, p. 355
By Maulana Wahiduddin Khan
تیرا رب بڑا کریم ہے۔ جس نے علم سکھایا قلم سے۔ انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ جانتا نہ تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی عمل (Islamic activism) کا صحیح نقطہ آغاز یہ ہے کہ ممکن سے آغاز کیا جائے۔ بعثت کے وقت جو حالات تھے اس کے اعتبار سے تطہیر مسجد، سیاسی استقلال، اور تنفیذ حدود کا کام، مطلوب ہونے کے باوجود، عملی طور پر ممکن نہ تھا۔ البتہ تعلیم اور دعوت سے آغاز کرنا پوری طرح دائرہ امکان میں تھا۔ آپ نے، اللہ تعالیٰ کی رہنمائی میں ناممکن کو چھوڑ کر ممکن سے عمل اسلامی کا آغاز کیا۔ انگریزی کا مقولہ ہے کہ سیاست ممکن کا فن ہے (politics is the art of possible) میں کہوں گا کہ عمل اسلامی کا پیغمبرانہ طریقہ یہ ہے کہ ممکن سے آغاز کیا جائے: Prophetic way of beginning is to begin from the possible. عصر میں یسر پیغمبر اسلام اور آپ کے ابتدائی اصحاب نے مکہ میں توحید کی دعوت دینا شروع کیا تو وہاں کے لوگوں کی طرف سے سخت رد عمل پیش آیا۔ بظاہر ایسا معلوم ہونے لگا کہ مکہ کی سرزمین اسلام کے لیے صرف مشکلات و مصائب کی سرزمین ہے۔ اس وقت قرآن میں یہ رہنما آیت اتری کہ پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے، مشکل کے ساتھ آسانی ہے: فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۔ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (5-6:94)۔ اس سے پیغمبر کے فاتحانہ طریقہ کار کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ وہ کبھی بھی صرف مشکلوں کی آماجگاہ نہ بنے۔ یہاں ہمیشہ مشکل کے ساتھ عین اسی وقت آسانی بھی ضرور پائی جائے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader