Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 356

By Maulana Wahiduddin Khan

جہاں بظاہر ڈس ایڈوانٹیج ہو وہیں اسی کے ساتھ ایڈوانٹیج کی صورتیں بھی ضرور موجود ہو۔ ،عسر میں یسر‘ کی مثال یہ ہے کہ مکہ میں اگر ابو جہل جیسے منکر تھے تو وہیں عمر جیسے اعتراف کرنے والے بھی موجود تھے۔ اس وقت اگر کعبہ سے بتوں کو نکالنا مشکل تھا تو عین اسی وقت یہ ممکن تھا کہ لوگوں کے دلوں سے غیر اللہ کی پرستش کا جذبہ نکالا جائے۔ اسی طرح دور اول میں اہل اسلام کو عرب میں جو مشکلات پیش آئیں وہ چیلنج بن کر اہل اسلام کی صلاحیتوں کو جگانے کا سبب بن گئیں۔ یہاں تک کہ، مارگولیٹھ کے الفاظ میں ان میں کا ایک ایک شخص ہیرو بن گیا۔ سیرت کا کام یہ پہلو بتاتا ہے کہ اہل اسلام جب اپنے آپ کو مسائل کے درمیان پائیں تو ان کو پیشگی طور پر یقین کرنا چاہیے کہ یہاں عین مسائل کے ساتھ ہی مواقع بھی موجود ہیں۔ ان کو چاہیے کہ مسائل کے خلاف فریاد کرنے کے بجائے مواقع کو دریافت کریں اور ان کو استعمال کر کے اپنی تاریخ کو آگے بڑھائیں۔ ہجرت: مقام عمل کی تبدیلی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات مکہ میں سخت سے سخت تر ہوتے چلے گئے، یہاں تک کہ وہاں کے مخالفین آپ کے قتل پر آمادہ ہو گئے۔ اس وقت آپ نے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہیں کیا بلکہ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے جس کو ہجرت کہا جاتا ہے۔ یہ ہجرت سادہ طور پر ترک وطن نہ تھی ۔ یہ دراصل ایک اسٹریٹیجی کا معاملہ تھا۔ اس کو ایک لفظ میں مقام عمل کی تبدیلی کہا جا سکتا ہے۔ آپ نے جب مکہ کو ایک ناموافق مقام پایا تو آپ نے مدینہ کو اپنا مرکز بنا لیا تا کہ وہاں سے اپنا مشن جاری رکھ سکیں ۔ اس سے یہ اصول ملتا ہے کہ ایک جگہ کے لوگ اگر ضد اور مخالفت کی آخری حد پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page