دینِ انسانیت
Urdu book, p. 357
By Maulana Wahiduddin Khan
آجائیں تو یہ صحیح نہ ہوگا کہ اہل اسلام وہیں ان سے لڑ کر ہلاک ہو جائیں۔ بلکہ انہیں دوسری مناسب جگہ تلاش کر کے وہاں اپنا اسلامی عمل جاری کر دینا چاہیے۔ یہ طریقہ ایک طرف اصل مشن کے زندہ رہنے کی ضمانت ہے، دوسری طرف اس میں یہ امکان بھی چھپا ہوا ہے کہ 'مدینہ' میں استحکام حاصل کرنے کے بعد 'مکہ' بھی آخرکار قبضہ میں آجاتے۔ فطرت پر اعتماد پیغمبر اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو بار بار یہ تجربہ ہو رہا تھا کہ لوگ آپ کے ساتھ برے طریقے سے پیش آتے ہیں۔ اشتعال انگیز کلمات کہنا، پتھر مارنا، راستہ میں رکاوٹ ڈالنا، وغیرہ۔ اس وقت قرآن میں حکم دیا گیا کہ : تم برائی کا جواب بھلائی سے دو۔ پھر تم دیکھو گے کہ جو تمہارا دشمن تھا وہ تمہارا قریبی دوست بن گیا ہے ۔ ( 41:34 ) اس ہدایت میں ایک اہم حقیقت بتائی گئی ہے وہ یہ کہ کوئی انسان بظاہر مخالف اور دشمن کیوں نہ ہو اس کے اندر خدا کی پیدا کی ہوئی فطرت بہر حال موجود رہتی ہے۔ فطرت ہمیشہ حق پسند ہوتی ہے۔ اس طرح گویا ہر ظاہری دشمن کے اندر تمہارا ایک مخفی دوست موجود رہتا ہے۔ اگر تم حق کے داعی ہو تو پیشگی طور پر یہ یقین کر لو کہ تمہاری دعوت کا ایک مثنی (counterpart) یقینا فریق ثانی کے سینہ میں موجود ہوگا۔ مخالف انسان کے اندر اس موافق انسان کو پانے کی یقینی تدبیر یہ ہے کہ تم اس کے برے سلوک کے جواب میں اپنی طرف سے اچھا سلوک کرو۔ تمہارا اچھا سلوک اس کے ظاہری پردے کو ہٹا دے گا۔ اور پھر اندر سے تمہارا ایک دوست انسان نکل آئے گا۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ دورِ اول میں ہزاروں لوگ صرف اسی اصول پر عمل کرنے کے نتیجہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader