دینِ انسانیت
Urdu book, p. 358
By Maulana Wahiduddin Khan
میں اسلام میں داخل ہوئے ۔ مثلاً ایک مشرک نے آپ کو تنہا پا کر آپ کے اوپر تلوار اٹھائی ۔ مگر اس پر قابو پانے کے بعد آپ نے اس کو معاف کر دیا ( المعجم الاوسط للطبرانی ، حدیث نمبر 9112 )۔ اسی وقت اس نے اسلام قبول کر لیا ، وغیرہ ۔ دور اول میں اس طرح کے واقعات کثرت سے پیش آئے جن کو تاریخ کی کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ دشمن کو استعمال کرنا بدر کی جنگ کے بعد مخالف فوج کے ستر آدمی گرفتار ہو کر مدینہ آئے ۔ یہ سب مکہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ اور وہ پڑھے لکھے لوگ تھے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ ان جنگی مجرموں میں سے جو شخص مدینہ کے دس بچوں کو پڑھا دے گا وہ اس کا فدیہ ہو گا ۔ اور اس کے بعد ہم اس کورہا کر دیں گے ( مسند احمد ، حدیث نمبر 2216 ) ۔ یہ اسلام کی تاریخ میں پہلا اسکول تھا جو اس طرح قائم کیا گیا کہ اس کے طلبہ تو سب مسلمان تھے ۔ مگر اس کے ٹیچر سب کے سب دشمن قوم سے تعلق رکھتے تھے ۔ امن کی طاقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ امن کی طاقت تشدد کی طاقت سے زیادہ ہے ۔ آپ نے اپنی پوری زندگی میں سب سے زیادہ جس طاقت کو استعمال کیا وہ یہی امن کی طاقت ہے ۔ مثال کے طور پر جب مکہ فتح ہوا تو مکہ کے وہ مخالفین آپ کے پاس لائے گئے جنہوں نے آپ کو ستایا تھا ، جنہوں نے آپ کو مکہ سے نکالا تھا ۔ جنہوں نے آپ کے خلاف جنگی کارروائی کی تھی ۔ اور آپ کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچائی تھیں ۔ یہ لوگ ثابت شدہ طور پر جنگی مجرم تھے ۔ اور جنگی مجرم کے لیے یہ عام رواج تھا کہ فاتح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader