دینِ انسانیت
Urdu book, p. 359
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کو قتل کر دیتا تھا۔ مگر پیغمبر اسلام نے ان کو ملامت کا کلمہ تک نہیں کہا۔ آپ نے سادہ طور پر اعلان فرمایا کہ جاؤ تم سب لوگ آزاد ہو : اذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ ( سیرت ابن ہشام ، جلد 2 ، صفحہ 412 ) ۔ یہ تشدد کے بجائے امن کی طاقت کو استعمال کرنا تھا۔ یہ جسمانی تسخیر کے بجائے ضمیر اور قلب کو متاثر کر کے آدمی کو اپنے قابو میں لینا تھا۔ اس اعلیٰ اخلاقی روش کا نتیجہ ، راوی کے الفاظ میں یہ ہوا کہ وہ لوگ حرم سے باہر اس طرح نکلے گویا کہ وہ قبروں سے نکلے ہوں۔ اور پھر وہ اسلام میں داخل ہوگئے : فَخَرَجُوا كَأَنَّمَا نُشِرُوا مِنَ الْقُبُورِ فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ (السنن الکبری للبیہقی ، حدیث نمبر 18275 ) ۔ تھرڈ آپشن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانہ میں مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان موجودہ اردن میں ایک جنگ پیش آئی جس کو غزوہ موتہ کہا جاتا ہے۔ اس جنگ میں چند دن کے اندر بارہ اصحاب شہید ہوگئے ۔ اس کے بعد خالد بن الولید کو اسلامی لشکر کا سردار بنایا گیا۔ انہوں نے اندازہ کیا تو معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی تعداد تین ہزار ہے اور رومیوں کی تعداد دو لاکھ ہے۔ یہ فرق ناقابل عبور حد تک غیر متناسب (out of proportion) تھا ۔ چنانچہ خالد بن الولید نے مقابلہ کے میدان سے ہٹ کر واپسی کا فیصلہ کیا۔ یہ لوگ جب واپس ہو کر مدینہ پہنچے تو مدینہ کے کچھ لوگوں نے ان کا استقبال یا فُرَّارُ (اے بھاگنے والو) کہہ کر کیا۔ اس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَيْسُوا بِالْفُرَّارِ ، وَلَكِنَّهُمُ الْكَرَّارُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى (سیرت ابن ہشام ، جلد 2 ، صفحہ 382 ) ۔ وہ بھاگنے والے نہیں ہیں بلکہ دوبارہ اقدام کرنے والے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader