دینِ انسانیت
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
کھلا ماحول ہو تو کس طرح الجھے ہوئے ذہنوں کی صفائی ہوتی ہے۔ کس طرح بڑے بڑے اشکالات کا حل خود متعلق شخصیتوں کے ذریعہ منتقح ہو کر سامنے آجاتا ہے۔ حد بندی طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں کہ خالد بن الولید اور سعد بن ابی وقاص کے درمیان ایک معاملہ میں اختلاف تھا، ان لوگوں کے درمیان اس پر بحث ہوتی تھی۔ مگر بہت دن تک دونوں کا اختلاف ختم نہیں ہوا۔ اس درمیان میں ایک شخص سعد بن ابی وقاص کے پاس آیا، اس نے حضرت سعد سے خالد بن الولید کی کچھ برائی بیان کی (مثلاً یہ کہ انھوں نے بہت دیر بعد اسلام قبول کیا اور غزوہ احد میں وہ مشرکین کی فوج کے سردار تھے)۔ حضرت سعد نے مذکورہ شخص کی باتوں کو سن کر کہا کہ رک جا، ہمارے اور خالد کے درمیان جو اختلاف ہے وہ ہمارے دین پر اثر انداز نہیں ہوگا : فَإِنَّ مَا بَيْنَنَا لَمْ يَبْلُغْ دِينَنَا (مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر 27187)۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دو بڑے سے بڑے عالم یا بزرگ کے درمیان گہرا اختلاف ہو سکتا ہے۔ مگر عین اختلاف کے وقت بھی وہ سختی کے ساتھ اپنی حد پر رہے گا۔ وہ کسی حال میں بھی حد سے باہر نہیں جائے گا۔ یہ حد بندی دو اعتبار سے ہوگی۔ ایک تو یہ کہ دونوں جب اس معاملہ میں بحث و گفتگو کریں گے تو ان کا کلام شدت کے ساتھ صرف اختلافی نکتہ تک مرتکز رہے گا، وہ اصل اختلافی نکتہ سے ادھر اُدھر منحرف نہیں ہوگا۔ دوسرے یہ کہ دونوں فریق کامل طور پر اس کا لحاظ رکھیں گے کہ ان کا اختلاف دماغی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader