دینِ انسانیت
Urdu book, p. 360
By Maulana Wahiduddin Khan
مدینہ کے مذکورہ مسلمان دراصل ثنائی طرزِ فکر (dichotomous thinking) میں مبتلا تھے ۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے لیے صرف دو میں سے ایک کا آپشن (انتخاب) ہے ۔ پہلا آپشن یہ کہ دشمن سے بہادرانہ طور پر لڑا جائے ۔ اور دوسرا آپشن یہ کہ ہمت ہار کر بزدلانہ پسپائی اختیار کی جائے ۔ چونکہ دوسرا آپشن غیر محمود تھا اس لیے ان کا خیال تھا کہ مسلم لشکر کو پہلے آپشن پر ہی قائم رہنا چاہیے تھا خواہ ان کا ایک ایک شخص لڑتے لڑتے اپنی جان دے دے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر رہنمائی دیتے ہوئے کہا کہ یہاں ایک تیسرا آپشن بھی ہے۔ اور وہ یہ کہ مقابلہ کے میدان سے ہٹ کر مزید تیاری کی جائے تا کہ آئندہ زیادہ مؤثر انداز میں اقدام کیا جا سکے ۔ خالد بن الولید کی موتہ سے واپسی فرار کی طرف واپسی نہیں تھی بلکہ وہ اسی تھرڈ آپشن کی طرف واپسی تھی۔ چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ مسلم جماعت نے تین سال بعد مزید تیاری کے ساتھ اسامہ ابن زید کی سرداری میں دوبارہ رومی سرحد کی طرف اقدام کیا اور شاندار کامیابی حاصل کی۔ میدانِ عمل کی تبدیلی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے آئے ۔ مگر مکہ کے سردار اب بھی خاموش نہیں ہوئے۔ انہوں نے آپ کے خلاف باقاعدہ جنگ چھیڑ دی۔ کئی بار دونوں طرف کی فوجوں میں ٹکراؤ ہوا۔ مگر جنگ کے ذریعہ آخری فیصلہ نہ ہو سکا۔ اس کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ سے وہ معاہدہ کر لیا جو صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ دراصل دونوں فریقوں کے درمیان دس سال کا نا جنگ معاہدہ تھا۔ اس معاہدہ کے ذریعہ آپ نے فریقِ ثانی کے ساتھ میدانِ مقابلہ کو بدل دیا۔ اب تک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader