دینِ انسانیت
Urdu book, p. 361
By Maulana Wahiduddin Khan
دونوں کا مقابلہ جنگ کے میدان میں پیش آرہا تھا۔ اب دونوں کا مقابلہ نظریاتی میدان میں منتقل ہوگیا۔ اس معاہدہ کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان بڑے پیمانہ پر ملنا جلنا شروع ہوگیا۔ اس اختلاط کے دوران اسلام کی نظریاتی برتری اپنے آپ ثابت ہونے لگی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہو کر اسلام میں داخل ہونے لگے۔ اہلِ اسلام کی تعداد مسلسل بڑھ رہی تھی اور فریقِ ثانی کی تعداد مسلسل گھٹ رہی تھی۔ یہاں تک کہ مزید جنگ کے بغیر محض عوامی طاقت سے اہلِ اسلام غالب آگئے۔ اس سنتِ رسول کا مطلب یہ ہے کہ حریف سے ایک میدان میں مقابلہ اگر موثر نہ ہورہا ہو تو مقابلہ کے میدان کو بدل کر اس کو اپنے موافق میدان میں لایا جائے جہاں اہل اسلام اپنی کوششوں کو زیادہ موثر بنا سکیں۔ تدریج کا اصول صحیح البخاری میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ قرآن جب اترنا شروع ہوا تو اس میں سب سے پہلے وہ آیتیں اتاری گئیں جن میں جنت اور جہنم کا ذکر تھا۔ اس طرح (تقریباً 15 سال بعد) جب لوگوں کے دل نرم ہوگئے تو اس کے بعد قرآن میں یہ حکم اترا کہ زنا چھوڑ دو اور شراب چھوڑو۔ اس کے بعد وہ کہتی ہیں کہ اگر قرآن میں یہ احکام شروع ہی میں اتار دیے جاتے تو عرب کہتے کہ ہم تو کبھی زنا نہیں چھوڑیں گے، ہم تو کبھی شراب نہیں چھوڑیں گے: لَا نَدَعُ الزِّنَا أَبَدًا... وَلَا نَدَعُ الْخَمْرَ أَبَدًا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4993)۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی شریعت کا نفاذ ہمیشہ ترتیب و تدریج کے اصول پر کیا جاتا ہے۔ یعنی پہلے لوگوں کے دلوں میں اس کی آمادگی پیدا کی جاتی ہے۔ اس کے بعد عملی طور پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader