Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 362

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کا نفاذ کیا جاتا ہے۔ کوڑے اور بندوق کے زور پر کبھی شریعت کا نفاذ ممکن نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص ایک غیر تیار شدہ معاشرہ میں محض طاقت کے زور پر شریعت کے احکام کو نافذ کرنا چاہے تو یہ سنتِ رسول کے خلاف ہوگا۔ اور سنتِ رسول کی خلاف ورزی کر کے کوئی کامیابی اس دنیا میں ممکن نہیں۔ آئیڈیلزم کے بجائے پر گیمِیٹزم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ ہے کہ اپنی ذات کے معاملہ میں آئیڈیلزم کو اختیار کرنے کی کوشش کرو۔ مگر دوسروں سے معاملہ کرنے میں پر گیمِیٹک حل (pragmatic solution) پر راضی ہو جاؤ۔ یہ آپ کی ایک اہم سنت ہے اور آپ کی پوری زندگی اس سنت کی مثال نظر آتی ہے۔ جس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان حدیبیہ کا معاہدہ لکھا جا رہا تھا، آپ نے اس میں یہ الفاظ لکھوائے: ہٰذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ رَسُولُ اللَّهِ ۔ قریش کے نمائندہ نے اعتراض کیا کہ ہم آپ کو خدا کا رسول نہیں مانتے۔ اس لیے آپ محمد رسول اللہ کے بجائے محمد بن عبد اللہ لکھوائیے۔ آپ نے محسوس کیا کہ اگر میں رسول اللہ کے لفظ پر اصرار کروں تو صلح کا معاہدہ نہیں ہو سکے گا۔ اس لیے آپ نے رسول اللہ کا لفظ کاغذ سے مٹا دیا اور اس کے بجائے محمد بن عبد اللہ لکھوا دیا (مسند احمد، حدیث نمبر 3187)۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں جو عظیم کامیابی حاصل کی اس میں اس سنت کا بڑا دخل ہے۔ یہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں بے شمار لوگ ہیں اور ہر آدمی کو آزادی حاصل ہے۔ اس لیے یہاں عملی معاملات میں پر گیمِیٹزم کا اصول اختیار کیے بغیر کوئی بڑی کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page