دینِ انسانیت
Urdu book, p. 363
By Maulana Wahiduddin Khan
پرگیمیٹک سولوشن یا عملی حل کو ماننا کوئی تنزل کی بات نہیں ہے۔ یہ حقیقت پسندی کی بات ہے، اور اس دنیا میں حقیقت پسندی ہی تمام کامیابیوں کی کنجی ہے۔ بصیرت کی ضرورت قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے رسول میں تمہارے لیے نمونہ ہے (الاحزاب، 33:21)۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی بات ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے نمونہ لینے کے لیے گہری سمجھ کی ضرورت ہے۔ اگر آدمی کے اندر گہری سمجھ نہ ہو تو وہ بظاہر قرآن کا یا سنت رسول کا نام لے گا مگر حقیقتاً اس کے عمل کا قرآن و سنت سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کسی ایک چیز کا نام نہیں بلکہ وہ بہت سی چیزوں کا مجموعہ ہے۔ مثلاً ہم سیرت کی کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال تک مکہ میں رہے مگر آپ نے کبھی کعبہ میں رکھے ہوئے بتوں کو نکال کر پھینکنے کی کوشش نہیں کی۔ مگر اسی پیغمبر کے بارے میں ہم پڑھتے ہیں کہ فتح مکہ کے بعد آپ کے حکم سے کعبہ کے تمام بت نکال کر باہر پھینک دیے گئے۔ ایک طرف ہم آپ کی زندگی میں دیکھتے ہیں کہ مکی دور کے آخر میں آپ کے مخالفین آپ کے مکان کو تلوار لے کر گھیر لیتے ہیں اس وقت آپ خاموشی سے ہجرت کر کے مدینہ چلے جاتے ہیں۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ یہی مخالفین احد کے موقع پر جب تلوار لے کر آتے ہیں تو آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ان کا مقابلہ کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں اس طرح کے مختلف نمونے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول کے نمونہ کو اپنانے کے لیے اس حکمت کو جاننا ضروری ہے کہ کون سا نمونہ کس موقع کے لیے ہے۔ اگر آدمی کے اندر یہ بصیرت نہ ہو تو بظاہر وہ سنت رسول پر عمل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader