Urdu book · دینِ انسانیت

حدیبیہ منہاج

Urdu book, p. 366

By Maulana Wahiduddin Khan

امت مسلمہ جب زندہ حالت میں ہو تو اس کا پیغمبر اس کے لیے نمونہ عمل ہوتا ہے۔ اور امت مسلمہ کے لوگ جب زندہ حالت پر باقی نہ رہیں تو وہ اپنے پیغمبر کو اپنے لیے فخر کا نشان بنا لیتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اسی دوسری حالت میں مبتلا ہیں۔ موجودہ مسلمانوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے لیے فخر کا نشان بنا لیا ہے۔ اور فخر کے جذبہ کی تسکین اسی طرح ہوتی ہے کہ آپ کو سپریملی سکسس فل کہا جائے۔ قرآن میں پیغمبر اسلام کو اسوہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے نہ کہ فخر کے طور پر۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسُوهٌ حَسَنَةٌ (33:21)۔ یعنی، تمہارے لیے اس کے رسول میں بہترین نمونہ ہے۔ مگر موجودہ دور کے مسلمانوں نے عملاً اپنی تشریح میں اس کو بدل کر لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ مَفْخَرَةٌ حَسَنَةٌ (رسول اللہ میں تمہارے لیے بہترین فخر کی غذا ہے) بنا دیا ہے۔ قرآن کی تعلیم کے مطابق، ہمارے لیے سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہم یہ معلوم کریں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سپریم سکسس کا راز کیا تھا۔ کیونکہ اس راز کو جان کر ہی ہم دوبارہ اسلام کو اعلیٰ کامیابی کے مقام پر پہنچا سکتے ہیں۔ اس سوال کو لے کر جب ہم قرآن میں غور کرتے ہیں تو سب سے پہلے ہمارے سامنے قرآن کی وہ سورہ آتی ہے جس کا نام الفتح ہے۔ اس سورہ میں اس واقعہ کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ: ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی: اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحاً مُّبِيناً (48:1)۔ ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے جس چیز کو سپریم سکسس بتایا ہے، اس کو قرآن میں فتح مبین کہا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فتح مبین یا سپریم سکسس کس طرح حاصل ہوئی۔ قرآن کی مذکورہ آیت بتاتی ہے کہ آپ کو یہ غیر معمولی فتح صلح حدیبیہ کے ذریعہ اور اس کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page