حدیبیہ منہاج
Urdu book, p. 367
By Maulana Wahiduddin Khan
بعد حاصل ہوئی۔ قرآن کی مذکورہ آیت صلح حدیبیہ کے بارے میں اتری تھی۔ اس لیے یہاں بطریق نص یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اس فتح کا راز و مخصوص طریقہ تھا جس کا استعمال حدیبیہ کے واقعہ میں کیا گیا۔ اس کو ہم حدیبیہ منہاج کہہ سکتے ہیں۔ حدیبیہ سے بظاہر آپ اپنے مقصد کو حاصل کیے بغیر واپس آئے تھے۔ چنانچہ حدیبیہ سے مدینہ واپس جاتے ہوئے راستہ میں جب سورہ فتح نازل ہوئی تو ایک شخص نے کہا کہ یہ تو کوئی فتح نہیں۔ انہوں نے ہم کو بیت اللہ میں داخلہ سے روک دیا۔ آپ نے فرمایا۔ بلکہ وہ تمام فتوح میں سب سے بڑی فتح ہے قَالَ رَجُلٌ عِنْدَ مُنْصَرَفِهِمْ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ : مَا هَذَا بِفْتَح، لَقَدْ صُدُودَنَا عَنِ الْبَيْتِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم: بَلْ هُوَ أَعْظَمُ الْفُتُوح (تفسیر القرطبی، جلد 16، صفحه 260)۔ البراء بن عازب صحابی نے بعد کے لوگوں سے کہا کہ تم لوگ فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو۔ مگر ہم لوگ (اصحاب رسول) حدیبیہ کو فتح سمجھتے تھے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4150)۔ ابن شہاب زہری تابعی (124-58ھ) نے کہا کہ اسلام میں صلح حدیبیہ کو فتح اعظم کا درجہ حاصل ہے (السيرة النبوية لابن كثير، جلد 3، صفحه 324) یہ جو کچھ کہا گیا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کو جو عظیم کامیابی ملی، اس کا راز صلح حدیبیہ تھا۔ اسلام کا قافلہ حدیبیہ سے گزر کر فتح اعظم کے درجہ کو پہنچا۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اہل اسلام کے لیے فتح اعظم یا سپریم سکسس کے مقام تک پہنچنے کا ذریعہ یہ ہے کہ وہ حدیبیہ منہاج کو اختیار کریں۔ اب غور کیجیے کہ حدیبیہ منہاج کیا ہے۔ یہ تمام قربانیوں میں سب سے بڑی قربانی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اصحاب رسول جیسے فداکاروں کا گروہ بھی اس معاملہ میں وقتی طور پر متزلزل ہو گیا اور نہایت دشواریوں کے ساتھ اس امتحان میں پورا اتر سکا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader