حدیبیہ منہاج
Urdu book, p. 368
By Maulana Wahiduddin Khan
اصحاب رسول کے سامنے بدر اور احد کے محاذ آئے جس میں انہیں اپنی جانوں کی قربانی پیش کرنی تھی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اصحاب رسول کسی سستی اور تذبذب کے بغیر اس میدان میں کود پڑے۔ انہوں نے خون بہا کر اپنی جان بازی اور قربانی کا ثبوت دیا۔ دوسری طرف تاریخ بتاتی ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کا معاہدہ کر لیا اور عمرہ کے بغیر مدینہ کی طرف واپس جانے پر راضی ہو گئے تو ایک ابو بکر صدیق کو چھوڑ کر تمام اصحاب رسول نے اس پر اپنی عدم رضامندی کا اظہار کیا۔ کوئی بھی اس کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید اصرار اور دباؤ کے تحت آخر کار وہ اس پر راضی ہوئے۔ یہاں سوچنے کی بات ہے کہ بدر واحد میں اور حدیبیہ میں کیا فرق ہے کہ اصحاب رسول جیسا سر فروش گروہ بدر واحد کی قربانی کے لیے بخوشی راضی ہو گیا مگر حدیبیہ کی قربانی پر راضی ہونا اس کے لیے سخت مشکل بن گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بدر واحد کے محاذ پر جان کی قربانی دینا تھا، اور حدیبیہ کے محاذ پر وقار کی قربانی دینے کا مسئلہ تھا۔ اور ساری تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ انسان کے لیے جان کی قربانی اتنی آسان ہے کہ ساری معلوم تاریخ میں بے شمار لوگ مسلسل جان کی قربانی دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن وقار کی قربانی اتنی زیادہ مشکل ہے کہ معلوم تاریخ میں چند اللہ کے بندوں کے سوا کوئی بھی دکھائی نہیں دیتا جو واقعی رضامندی کے ساتھ وقار کی قربانی دینے پر آمادہ ہو جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جان کی قربانی میں آدمی ہیرو بن رہا ہوتا ہے جب کہ وقار کی قربانی میں وہ اچانک زیر و بن جاتا ہے۔ جان کی قربانی میں وہ اپنے آپ کو فتح کی طرف جاتا ہوا دیکھتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader