حدیبیہ منہاج
Urdu book, p. 369
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے اور وقار کی قربانی میں وہ محسوس کرتا ہے کہ میں نے خود اپنے فیصلہ سے شکست کو قبول کرلیا۔ جان کی قربانی بظاہر ایک عزت کا عمل ہے اور وقار کی قربانی اس کے برعکس، بے عزتی کا عمل۔ جان کی قربانی میں آگے بڑھنا ہوتا ہے اور وقار کی قربانی میں پیچھے ہٹ جانا۔ جان کی قربانی میں اقدام کا سہرا بندھتا ہے اور وقار کی قربانی میں پسپائی کا الزام سہنا پڑتا ہے ــــ یہی وجہ ہے کہ جان کی قربانی چھوٹی قربانی ہے اور وقار کی قربانی زیادہ بڑی قربانی۔ یہ ایک معلوم بات ہے کہ جتنی بڑی قربانی اتنی ہی بڑی کامیابی۔ سب سے بڑی کامیابی کسی کو صرف اس وقت ملتی ہے جب کہ وہ سب سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار ہو ۔ رسول اور اصحابِ رسول نے چونکہ حدیبیہ کے موقع پر سب سے بڑی قربانی دی اسی لیے وہ اس دنیا میں سب سے بڑی کامیابی کے مستحق قرار پائے۔ حدیبیہ منہاج میں وہ کون سی خصوصی طاقت ہے جس کی بنا پر وہ فتح مبین کا دروازہ کھول دیتا ہے ۔ اس کا سراغ اس واقعہ میں ملتا ہے کہ ذوالقعدہ 6ھ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے مکہ کا سفر فرمایا۔ اس وقت آپ کے ساتھ جو مردانِ کار تھے ، ان کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے بھی کم تھی۔ مگر اس کے دو سال سے بھی کم عرصہ بعد رمضان 8ھ میں جب آپ نے دوبارہ مکہ کی طرف مارچ کیا تو آپ کے ساتھ مردانِ کار کی تعداد دس ہزار ہو چکی تھی ۔ پہلے سفر میں اہل مکہ نے آپ کو حدیبیہ کے مقام سے لوٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔ دوسرے سفر میں آپ کے عظیم قافلہ کو دیکھ کر وہ اتنا مرعوب ہوئے کہ مقابلہ کے بغیر انہوں نے شکست قبول کرلی۔ اس سے معلوم ہوا کہ حدیبیہ منہاج انسانی تسخیر کا منہاج ہے۔ حربی منہاج میں انسانوں کے جسم کو قتل کیا جاتا ہے۔ اور حدیبیہ منہاج میں انسانوں کی روح کو مسخر کیا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader