دینِ انسانیت
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
بحث کی سطح پر رہے، وہ اس سے آگے بڑھ کر دلوں کی کدورت نہ بننے پائے۔ ”وہ ہمارے دین پر اثر انداز نہیں ہوگا“ کا مطلب یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ اس اختلاف کی وجہ سے ہم ایک دوسرے کی نیت پر شبہ کرنے لگیں۔ ہم ایک دوسرے پر اخلاقی نوعیت کا الزام لگانے لگیں۔ ہم ایک دوسرے کی شخصیت پر چوٹ کرنا شروع کر دیں۔ ہم دونوں کی بحث تمام تر دلائل پر چلے گی، نہ کہ الزام تراشی اور عیب جوئی پر۔ اختلاف کے باوجود حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تیسرے خلیفہ راشد تھے۔ آخر عمر میں بعض جھوٹی خبروں کی بنا پر مصر کے ایک ہزار سے زیادہ آدمی مدینہ آئے۔ انھوں نے مدینہ پہنچ کر کافی شور وغل کیا اور آخرکار حضرت عثمان کے مکان کو گھیر لیا۔ اگرچہ حضرت عثمان کے خلاف ان کا الزام سراسر بے بنیاد تھا، مگر یہ مسلمان آپ سے اتنا برہم ہوئے کہ آپ کا گھر سے نکلنا اور گھر میں پانی جانا بند کر دیا۔ یہاں تک کہ 18 ذی الحجہ 35ھ کو حملہ کر کے آپ کو شہید کر دیا۔ بوقت وفات آپ کی عمر 82 سال تھی۔ حضرت عثمان کا محاصرہ تقریباً 40 دن تک جاری رہا تھا۔ بلوائیوں نے جب حضرت عثمان کو گھیر لیا اور مکان سے نکلنے پر پابندی لگادی تو آپ کے لیے مسجد جانا ممکن نہ رہا۔ خلیفہ کی حیثیت سے نمازوں کی امامت آپ ہی فرماتے تھے۔ جب آپ کا مسجد جانا بند ہو گیا تو بلوائیوں کا سردار غافقی بن حرب عکی امام بن گیا۔ اس نے مدینہ کی مسجد میں نمازوں کی امامت شروع کر دی۔ یہ مدینہ کے مسلمانوں کے لیے بڑی سخت آزمائش کی بات تھی۔ ایک طرف وہ اپنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader