Urdu book · دینِ انسانیت

حدیبیہ منہاج

Urdu book, p. 370

By Maulana Wahiduddin Khan

جنگ کا منہاج یہ ہے کہ دشمن کا خاتمہ کر کے اس کے اوپر قبضہ کیا جائے۔ حدیبیہ منہاج یہ ہے کہ دشمن کو دوست بنا کر اس کو اپنی صف میں شامل کر لیا جائے۔ جنگ کے منہاج میں صاحبِ منہاج کا ہاتھ لوگوں کی گردن پر ہوتا ہے اور حدیبیہ کے منہاج میں صاحبِ منہاج کا ہاتھ لوگوں کے قلوب پر۔ جنگ کا منہاج دوسروں کو مٹا کر اپنا غلبہ قائم کرنا ہے اور حدیبیہ کا منہاج لوگوں کو شریک کر کے حق کو سر بلند کرنا ہے۔ جنگ کا منہاج اگر صرف ”میں“ کا نام ہے تو حدیبیہ منہاج ”میں اور آپ“ دونوں کا نام۔ جنگ کے منہاج میں نفرت کا کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے اور حدیبیہ کے منہاج میں محبت کامیابی کی منزل تک پہنچاتی ہے۔ حدیبیہ کا واقعہ نبوت کے تقریباً 20 سال بعد پیش آیا۔ غور کیجیے کہ ایسا کیوں ہوا۔ اس طریقہ کو اختیار کرنے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی ۔ حدیبیہ منہاج کے اس پہلو پر غور کیا جائے تو اس سے ایک اور عظیم حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے۔ اس معاملہ کا سراغ سورہ الفتح کے مطالعہ سے ملتا ہے۔ اس میں اصحابِ رسول کو مخاطب کر کے بتایا گیا ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر جب قریش کے سرداروں نے سرکشی کا مظاہرہ کیا تو یہ ممکن تھا کہ تم کو جنگ کی اجازت دیدی جائے اور اللہ کی مدد سے تمہیں فتح بھی حاصل ہو۔ مگر ایک خاص مصلحت کی وجہ سے تم کو جنگ کی اجازت نہیں دی گئی۔ وہ مصلحت یہ تھی کہ مکہ میں اس وقت بہت سے مرد اور عورت تھے جن کے دل میں اسلام داخل ہو چکا تھا۔ مگر انہوں نے چونکہ ابھی اپنے اسلام کا اعلان نہیں کیا تھا، اس لیے تم ان کو نہیں جانتے تھے۔ گویا کہ امکانی طور پر وہ مسلمان تھے۔ اگر دونوں فریقوں میں جنگ چھڑتی تو یہ لوگ بھی اس میں مارے جاتے۔ تم لاعلمی میں اہل انکار کے ساتھ اہل اقرار کو بھی پیس ڈالتے۔ اور بلا شبہ یہ بہت بڑا نقصان ہوتا۔ (الفتح، 25-48:22 )

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page