Urdu book · دینِ انسانیت

حدیبیہ منہاج

Urdu book, p. 371

By Maulana Wahiduddin Khan

پھر فرمایا کہ اللہ نے وہ بات جانی جو تم نے نہ جانی : فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا ( 27: 48) ۔ اس علم کی بنا پر حدیبیہ کے موقع پر یہ ہدایت دی گئی کہ یک طرفہ شرط ماننا ہو تب بھی اس کو مان کر سرداران مکہ سے صلح کرلو۔ تا کہ ان امکانی مسلمانوں کو یہ موقع مل جائے کہ وہ اپنے پوشیدہ ایمان کا اعلان کر کے اسلام کی صفوں میں داخل ہو جائیں۔ اس صورت حال کا پس منظر یہ ہے کہ عرب کے لوگ (بنو اسماعیل) عموماً سادہ مزاج تھے اور اپنی فطرت پر قائم تھے۔ ان کا شرک اوپری قسم کا تھا، وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ ان کے اندر سرایت نہیں کر سکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں کثرت سے ایسے واقعات ملتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا ہے۔ وہ سادہ قسم کے سوالات کرتا ہے اور اس کے بعد یا تو آپ کی صداقت کا اعتراف کر لیتا ہے یا اسی وقت کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیتا ہے۔ مثلاً عمرو بن عبسہ ایک صحابی ہیں۔ وہ اولاً مکہ میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے ۔ اور آپ سے کہا کہ جو کچھ اللہ نے آپ کو بتایا ہے، اس میں سے مجھے بتائیے (عَلِّمْنِي مِمَّا عَلَّمَکَ اللہ )۔ آپ انہیں توحید، صلہ رحمی اور حسن اخلاق کی باتیں بتاتے ہیں۔ وہ فوراً کہہ اٹھتے ہیں کہ کتنی اچھی یہ باتیں ہیں جن کے ساتھ اللہ نے آپ کو بھیجا ہے : نِعْمَ مَا أُرْسِلْتَ بِہ ( الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد 4 ، صفحہ 204 ) ۔ اس طرح کے واقعات کثرت سے سیرت اور حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدیم عربوں کا بگاڑ اوپری نوعیت کا تھا۔ ان کی اصل شخصیت فطری حالت پر قائم تھی اور معمولی تحریک سے حق کو پہچان لیتی تھی۔ قدیم عربوں کی اسی سادگی کا نتیجہ تھا کہ ان کے چند سرداروں کو چھوڑ کر عام عربوں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page