Urdu book · دینِ انسانیت

حدیبیہ منہاج

Urdu book, p. 372

By Maulana Wahiduddin Khan

لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار زیادہ تر غلط فہمی کی بنا پر تھا ، نہ کہ حقیقتاً سرکشی کی بنا پر۔ اپنے اسی مزاج کی بنا پر انہیں یہ جرأت ہوئی کہ بدر کی جنگ سے پہلے وہ دعا کریں جس کا ذکر سورہ انفال (8:19) میں کیا گیا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مکہ کے لوگ جب ایک ہزار کی تعداد میں مکہ سے نکل کر بدر کی طرف روانہ ہوئے تا کہ رسول اور اصحاب رسول سے جنگ کریں تو وہ بیت اللہ میں گئے۔ اور کعبہ کے پردے کو پکڑ کر دعائیں کیں۔ اس دعا میں انہوں نے کہا کہ اے اللہ دونوں گروہوں میں سے جو گروہ زیادہ ہدایت پر ہو اور دونوں دینوں میں سے جو دین زیادہ افضل ہو، تو اس کی مدد فرما اور اس کو فتح دے ـــــ فَإِنَّهُمْ لَمَّا نَفَرُوا وَإِلَى نُصْرَةِ الْعِيْرِ تَعَلَّقُوا بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ وَقَالُوا: اَللّٰهُمَّ اُنْصُرْ أَهْدَى الطَّائِفَتَيْنِ ، وَأَفْضَلَ الدِّيْنَيْنِ ( دلائل النبوة للبيهقي ، جلد 3، صفحه 75 )۔ اس کے بعد جب دونوں فریقوں میں ٹکراؤ ہوا تو اہل ایمان کو فتح اور اہل شرک کو شکست ہوئی ۔ چنانچہ قرآن میں اہل مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ : اگر تم فیصلہ چاہتے تھے ۔ تو فیصلہ تمہارے سامنے آ گیا اور اگر تم باز آ جاؤ تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے (8:19) ۔ جنگ بدر کی اسی خصوصیت کی بنا پر اس کو یوم الفرقان (8:41) کہا گیا ہے۔ جنگ بدر میں واضح فیصلہ آنے کے بعد عرب کے لوگ ، تھوڑے سے سرداروں کو چھوڑ کر، سخت متزلزل ہو گئے ۔ ان کا یہ خیال ہو گیا کہ صداقت ہماری طرف نہیں ہے بلکہ محمدؐ کی طرف ہے۔ اس طرح بدر کے بعد عربوں کی اکثریت دین توحید کی طرف مائل ہو گئی۔ تاہم کچھ جابر اور سرکش سرداروں کے خوف سے ہر ایک اپنے ایمان کو چھپائے رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ قدیم عرب ( بنو اسماعیل ) اپنی سادگی اور اپنے فطری مزاج کی بنا پر اول روز ہی سے امکانی طور پر مومن تھے۔ اس کے بعد کے موقع پر خدا سے استفتاح جب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page