حدیبیہ منہاج
Urdu book, p. 373
By Maulana Wahiduddin Khan
الٹی شکل میں برآمد ہوا تو ان کا ابتدائی میلان زیادہ طاقتور رجحان میں تبدیل ہو گیا۔ وہ امکانی طور پر اسلام کے دروازہ پر پہنچ گئے۔ اب مسئلہ صرف ایک تھا، اور وہ سردارانِ قریش کا تھا۔ وہ اپنی قیادت اور برتری کو قائم رکھنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ چھیڑے ہوئے تھے اور بظاہر اس پر راضی نہ تھے کہ آپ کا اور آپ کے موحدانہ مشن کا خاتمہ کیے بغیر وہ اپنی جنگ جوئی کو ختم کر دیں۔ انہیں سرکش سرداروں کے خوف سے مکہ اور اطرافِ مکہ کے لوگ اسلام قبول کرنے سے گھبراتے تھے۔ کسی ندی میں پانی بہہ کر آئے اور بیراج کے آہنی گیٹ پر رک جائے۔ اب ایک طرف پانی کے ذخائر ہیں اور دوسری طرف کھیت اور باغات۔ ایسی حالت میں اگر روک دروازہ کو ہٹا دیا جائے تو پانی کا سیلاب اپنے آپ بہہ کر کھیتوں اور باغوں میں پہنچ جائے گا۔ اس کے بعد اس کی ضرورت نہ ہوگی کہ پانی کے ذخیرہ کو ھکا دے کر آگے بڑھایا جائے۔ اس وقت قریش کی جنگ جوئی اسی قسم کے ایک روک دروازہ (trap door) جیسی ہوگئی تھی۔ مسئلہ صرف دریائی روک کو ہٹانے کا تھا۔ روک کے ہٹنے کے بعد یقینی تھا کہ ہدایت کا سیلاب اپنے آپ یلغار کر کے لوگوں کے دلوں میں داخل ہو جائے گا۔ قریش سے جنگ جاری رکھنے کے لیے خون کی قربانی درکار تھی۔ اور جنگ کی صورتحال کو ختم کرنے کے لیے وقار کی قربانی کا مسئلہ تھا۔ کیونکہ جنگ دوطرفہ بنیاد پر ہر گز ختم نہیں ہو سکتی جنگ کو ختم کرنے کی واحد صورت یہ تھی کہ اس کو وقار کا مسئلہ بنایا جائے اور یک طرفہ طور پر اپنے وقار کی قربانی دے کر قریش مکہ سے صلح کر لی جائے۔ صلح حدیبیہ اسی قسم کا ایک دور رس معاملہ ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader