حدیبیہ منہاج
Urdu book, p. 374
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیبیہ منہاج یہ ہے کہ مدعو کی طرف سے جب رکاوٹ ختم نہ کی جارہی ہو تو داعی یک طرفہ جھکاؤ کے ذریعہ اپنی طرف سے رکاوٹ کا خاتمہ کردے۔ اس وقت صورتحال یہ تھی کہ مسلمان اپنے سینہ میں یہ غم لیے ہوئے تھے کہ مکہ کے سرداروں نے ان کو ان کے وطن سے نکالا۔ ان کے گھروں اور جائیدادوں پر قبضہ کیا۔ لڑائیاں چھیڑ کر ان کی عورتوں کو بیوہ اور ان کے بچوں کو یتیم کیا۔ مکہ جا کر عمرہ کرنے میں رکاوٹیں ڈالیں۔ اس قسم کے واقعات انہیں اس پر اکسارہے تھے کہ قریش سے لڑ کر انتقام لیں اور انہیں ان کے کیے کا سبق دیں۔ دوسری طرف یہ صورتحال تھی کہ اگر مسلمان اپنے غموں اور شکایتوں کو بھلا دیں اور اپنے شکایتی جذبات کو دبا کر یک طرفہ طور پر خاتمہ جنگ کے لیے راضی ہو جائیں تو اس کے بعد معتدل فضا پیدا ہو جائے گی۔ معتدل فضا پیدا ہونے کے بعد اسلام کے تعارف کا کام تیزی سے بڑھ جائے گا۔ لوگ جو پہلے ہی سے اسلام کے قریب آچکے ہیں، حالات کی موافقت انہیں تیزی سے اسلام کی طرف لانا شروع کر دے گی۔ قتال نام ہے خون کی قربانی دے کر اسلام کا دفاع کرنے کا۔ حدیبیہ نام ہے وقار کی قربانی دے کر خدا کے بندوں کے لیے خدا کے دین کا دروازہ کھولنے کا۔ یہی فرق یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ ثانی الذکر قربانی اول الذکر قربانی سے زیادہ عظیم ہے۔ مسلم نے ابو ہریرہ کے واسطہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پسند ہے کہ ہم اپنے اخوان (بھائیوں) کو دیکھیں۔ صحابہ نے کہا کہ کیا ہم آپؐ کے اخوان نہیں ہیں اے خدا کے رسول۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم لوگ میرے اصحاب ہو۔ ہمارے اخوان وہ لوگ ہیں جو ابھی نہیں آئے: وَوَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا، قَالُوا: أَوَلَسْنَا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader