Urdu book · دینِ انسانیت

حدیبیہ منہاج

Urdu book, p. 375

By Maulana Wahiduddin Khan

إِخْوَانُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: أَنْتُمْ أَصْحَابِي. وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ ( صحيح مسلم، حدیث نمبر 249)۔ ابو عبیدہ بن الجراح نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے خدا کے رسول ، کیا امت میں کوئی ہم سے بہتر ہے۔ ہم آپ پر ایمان لائے۔ اور آپ کے ساتھ جہاد کیا۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ وہ لوگ جو میرے اوپر ایمان رکھیں اور انہوں نے مجھ کو دیکھانہ ہوگا ــــــ یا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدٌ خَيْرٌ مِنَّا آمَنَّا بِكَ وَجَاهَدْنَا مَعَكَ؟ قَالَ: قَوْمٌ يَجِيئُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 3538)۔ اس حدیث میں لَمْ يَرَوْنِی محض لفظی معنوں میں نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ایک ایسا پیغمبر جو بعد کے زمانہ میں تاریخ کی سب سے بڑی شخصیت بننے والا ہو، جس کی عظمت مسلمہ عظمت کا درجہ حاصل کرنے والی ہو، اس کو ماننا کوئی امتیازی خصوصیت کی بات نہیں ہوسکتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس کو کسی معنوی مفہوم میں لیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس پیغمبر کی منشاء کو دورِ اول کے اصحاب رسول نے براہِ راست طور پر پیغمبر کو دیکھ کر اور اس سے سن کر مانا تھا، اس پیغمبر کی منشاء کو بعد کے اخوانِ رسول دیکھے اور سنے بغیر ذاتی دریافت کے ذریعہ معلوم کریں گے۔ اس معاملہ کی وضاحت ایک مثال سے بخوبی ہوتی ہے۔ اصحابِ رسول کے سامنے بدر اور احد کا محاذ آیا۔ یہ محاذ جان کی قربانی کا طالب تھا۔ اصحابِ رسول نے بلا تامل یہ قربانی پیش کردی۔ پیغمبر کا اشارہ پاتے ہی وہ بدر واحد کے میدانِ جہاد میں کود پڑے۔ پھر کسی کو اللہ نے شہادت دی ، اور کوئی اس سے غازی بن کر واپس آیا۔ انہیں اصحابِ رسول کے سامنے دوسرا محاذ وہ آیا جس کو اربابِ سیر غزوۃ الحدبیہ‘‘

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page