Urdu book · دینِ انسانیت

حدیبیہ منہاج

Urdu book, p. 376

By Maulana Wahiduddin Khan

کہتے ہیں۔ یہ دوسرا محاذ بھی قربانی کا محاذ تھا۔ البتہ ظاہری طور پر دونوں میں فرق تھا۔ اس دوسرے محاذ پر صرف ایک ابو بکر صدیق کو چھوڑ کر تمام کے تمام صحابہ تشویش میں مبتلا ہو گئے۔ وہی لوگ جنہوں نے پہلے محاذ پر یقین کا مظاہرہ کیا تھا، اس دوسرے محاذ پر شدید تردّد میں گئے۔ یہاں تک کہ پیغمبر کے ذاتی اور شخصی زور پر انہوں نے اس کو قبول کیا۔ آج یہی تاریخ دوبارہ مسلمانوں کی طرف لوٹ آئی ہے۔ آج ایک طرف ساری دنیا میں ایسی روحیں موجود ہیں جو بظاہر غیر مسلم ماحول میں ہیں۔ مگر ان کی فطرت دین حق کو قبول کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ لیکن موجودہ زمانہ میں مسلمانوں اور غیر مسلم قوموں کے درمیان ساری دنیا میں نزاع اور ٹکراؤ جاری ہے۔ اس نزاع اور ٹکراؤ نے اس معتدل فضا کا خاتمہ کر دیا ہے جس میں مذکورہ قسم کے غیر مسلم کھلے ذہن کے ساتھ اسلام کو دیکھیں اور اس کو قبول کر لیں۔ اب آج مسلمانوں کو دوبارہ وہی قربانی دینا ہے جو صلح حدیبیہ کے وقت اصحاب رسول نے دی تھی۔ ان کو ذاتی شکایتوں کو بھلا دینا پڑا تھا۔ آج بھی حالات کا تقاضا ہے کہ مسلمان اپنی ذاتی اور قومی شکایتوں کو بھلا دیں تا کہ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل تعلقات قائم ہو سکیں۔ صحابہ کرام نے رسول اللہ کو دیکھ کر اور آپ کی براہ راست ذاتی ہدایت پر صبر کی قربانی دی تھی۔ آج مسلمانوں کو رسول اللہ کو دیکھے بغیر صرف آپ کی سیرت کو سامنے رکھتے ہوئے یہی صبر والی قربانی دینا ہے۔ آج کے مسلمان اگر یہ قربانی دے سکیں تو وہ مذکورہ حدیث کے مطابق اخوان رسول قرار پائیں گے، اور بلاشبہ کسی مسلمان کے لیے اس سے بڑی سعادت نہیں ہوسکتی کہ قیامت کے دن اس کا استقبال اخوان رسول کی حیثیت سے کیا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page