Urdu book · دینِ انسانیت

جنگ پر بیعت نہیں

Urdu book, p. 377

By Maulana Wahiduddin Khan

جنگ پر بیعت نہیں امن ایک ایجابی اہمیت کی چیز ہے۔ جبکہ جنگ کی کوئی ایجابی اہمیت نہیں۔ جنگ تمام تر ایک سلبی نوعیت کی چیز ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ امن انسانی معاشرہ کی ایک مستقل ضرورت ہے۔ جنگ صرف وقتی طور پر بطور دفاع مطلوب ہو سکتی ہے۔ وہ بھی ہمیشہ نہیں بلکہ صرف اس وقت جبکہ امن کی برقراری کی ہر ممکن تدبیر ناکام ہو چکی ہو۔ اور مقابلہ کے سوا کوئی اور صورت سرے سے باقی ہی نہ رہے۔ امن و جنگ کا یہ فرق اتنا قطعی ہے کہ ہر مذہب میں اس کو مستقل اصول کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس معاملہ میں کسی مذہب کا کوئی استثناء نہیں۔ اسلام جو ایک غیر محرف مذہب ہے، اس میں بھی امن و جنگ کے بارے میں یہی تصور پایا جاتا ہے جو اوپر بیان ہوا۔ چنانچہ قرآن میں: الصُّلْحُ خَیْرٌ (4:128) کی آیت نازل ہوئی۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: صلح بہتر ہے۔ مگر قرآن میں کہیں بھی الحرب خیر (جنگ بہتر ہے) کے مفہوم کی کوئی آیت نازل نہیں ہوئی۔ اسی طرح لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللّٰہَ الْعَافِیَةَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2966) کی حدیث موجود ہے۔ یعنی، دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے امن و عافیت مانگو۔ مگر اس کے برعکس، اس مفہوم کی کوئی حدیث موجود نہیں کہ لوگو دشمن سے جنگ کے متمنی بنو اور اللہ سے حرب و ضرب کی دعا کرو۔ یہ بات قرآن و حدیث میں نہایت واضح ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا ایک طبقہ ظاہر ہوا ہے جو اپنے آپ کو اسلام پسند کہتا ہے مگر زیادہ صحیح طور پر اس کا نام جنگ پسند ہونا چاہیے۔ کیونکہ انہیں جنگ کی باتیں بہت پسند ہے۔ انہوں نے اقبال (وفات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page