Urdu book · دینِ انسانیت

جنگ پر بیعت نہیں

Urdu book, p. 378

By Maulana Wahiduddin Khan

1930) کو اپنا ہیرو بنایا ہے جس نے شاعرانہ تخیل کے تحت کہا تھا: خودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہ اگر چہ اپنی ذات کے لیے یہ لوگ بھی پوری طرح امن پسند ہیں۔ ان کا اصول ہے: جنگ نہ کرو البتہ جنگ کی باتیں خوب کرو۔ وہ خود اپنی ایک انگلی بھی کٹانا نہیں چاہتے مگر اپنی تقریر و تحریر میں سر کٹانے کو خوب گلوریفائی کرتے ہیں۔ اپنی اس دو عملی کے نتیجہ میں وہ خود تو ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں۔ البتہ سادہ لوح مسلمان ان کی باتوں سے متاثر ہو کر مارے جاتے ہیں۔ اسلام کی تاریخ میں صلح حدیبیہ اسلام کی امن پسندی کی نہایت اعلیٰ مثال ہے۔ مگر ان جنگ پسند حضرات نے صلح حدیبیہ میں بھی جنگ کا اصول دریافت کر لیا ہے۔ وہ بیعت الرضوان کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ دیکھو صلح حدیبیہ بھی جنگ کے منصوبہ سے خالی نہیں۔ مگر یہ حوالہ نہایت غلط اور بے بنیاد ہے۔ سیرت اور حدیث کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بیعت الرضوان جنگ کی بیعت نہیں تھی ، بلکہ عدم فرار کی بیعت تھی۔ یہ بیعت حدیبیہ کے سفر میں پیش آئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ سے سفر کے لیے نکلے تو اس وقت آپ نے اعلان فرمایا تھا کہ ہم جنگ کے لیے نہیں جا رہے ہیں بلکہ عمرہ کے لیے جا رہے ہیں۔ حدیبیہ کے قیام میں بھی آپ نے بتکرار یہ واضح فرمایا کہ ہمارا مقصد ہر گز جنگ نہیں ہے۔ بلکہ صرف زیارت کعبہ ہے۔ ایسی حالت میں حدیبیہ پہنچ کر جنگ کی بیعت لینے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ پھر بیعت الرضوان کی حقیقت کیا تھی۔ اس کے سلسلہ میں اس کا مختصر تاریخی پس منظر بیان کرنا ہوگا۔ بیعت الرضوان (6ھ) اسلامی تاریخ کا مشہور واقعہ ہے جو حدیبیہ کے ضمن میں پیش آیا۔ یہ سفر اصلاً عمرہ کرنے کے لیے ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ کے مقام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page