جنگ پر بیعت نہیں
Urdu book, p. 379
By Maulana Wahiduddin Khan
پر پہنچتے تو قریش نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روکا۔ اس وقت قریش سے آپ کی صلح کی بات چیت شروع ہوئی۔ اس دوران آپ نے حضرت عثمان بن عفان کو اپنا سفیر بنا کر قریش کے پاس بھیجا تا کہ وہ اہل مکہ کو بتائیں کہ آپ مکہ میں صرف عبادت کے لیے داخل ہونا چاہتے ہیں نہ کہ جنگ اور ٹکراؤ کے لیے۔ قریش اس بات پر راضی نہیں ہوئے۔ انہوں نے حضرت عثمان کو اپنے یہاں روک لیا۔ جب آپ کی واپسی میں تاخیر ہوئی تو مشہور ہو گیا کہ قریش نے حضرت عثمان کو قتل کر دیا ہے۔ یہ خبر بے حد غیر معمولی تھی۔ چنانچہ اس کو سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چودہ سو اصحاب کو جمع کیا اور ان سے بیعت لی اسی کا نام بیعت الرضوان ہے۔ یہ بیعت کس بات پر تھی۔ روایات میں آتا ہے کہ کچھ لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت پر بیعت لی ہے۔ حضرت جابر بن عبد اللہ، جو خود اس بیعت میں شریک تھے، انہوں نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے موت پر بیعت نہیں لی۔ بلکہ اس بات پر بیعت لی کہ ہم بھاگیں گے نہیں۔ اِنَّ رَسُولَ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لَمْ يُبَايِعْنَا عَلَى الْمَوْتِ، وَلَكِنْ بَايَعْنَا عَلَى أَلَّا نَفِرَّ (البداية والنهاية، جلد 4، صفحہ 380)۔ تمام سیرت نگاروں نے بیعت الرضوان کا یہی مفہوم لیا ہے۔ الفاظ اور سیاق کے مطابق اس کا کوئی اور مفہوم نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ ابن قیم نے اپنی مشہور کتاب زاد المعاد میں بیعت الرضوان کے تذکرہ کے تحت یہ الفاظ لکھے ہیں: فَبَايَعُوهُ عَلَى أَلَّا يَفِرُّوا (زاد المعاد، جلد 3، صفحہ 259)۔ روایات میں آتا ہے کہ اس کے بعد قریش مکہ نے سہیل بن عمرو کو اپنا سفیر بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ سہیل بن عمر و ایک اعتدال پسند آدمی تھے اور بعد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader