Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

لیے ضروری سمجھتے تھے کہ مسجد میں جاکر جماعت کے ساتھ نماز ادا کریں، دوسری طرف وہ دیکھ رہے تھے کہ ایک شخص جو کھلا ہوا مفسد اور غلط کار ہے، وہی مسجد کا امام بنا ہوا ہے۔ اس نازک حالت میں ایک شخص حضرت عثمان سے ملا اور ان سے پوچھا کہ ایسی حالت میں ہم کیا کریں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انھیں یہ ہدایت فرمائی کہ تم لوگ اس کے پیچھے نماز ادا کرو۔ آپ نے فرمایا: فَإِذَا أَحْسَنَ النَّاسُ فَأَحْسِنْ مَعَهُمْ، وَإِذَا أَسَاءُوا فَاجْتَنِبْ إِسَاءَتَهُمْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 695) ۔ یعنی، جب وہ لوگ کوئی نیک کام کریں تو اس میں ان کا ساتھ دو اور جب وہ لوگ کوئی بُرا کام کریں تو ان کی بُرائی سے دور رہو۔ خلیفہ راشد کے اس واقعہ میں عظیم الشان نمونہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص سے ہمیں خواہ کتنی ہی زیادہ شکایت ہو، اس کے بارے میں اظہار رائے کرتے ہوئے ہمیں ہمیشہ انصاف پر قائم رہنا چاہیے۔ ہمیں اپنے اختلاف کو حد کے اندر رکھنا چاہیے، نہ یہ کہ اختلاف پیدا ہونے کے بعد ہم حد کے باہر نکل جائیں۔ صحت مند نتائج سعید بن ابی عروبہ تابعی ( وفات 157 ھ ) نے عالم کی تعریف کرتے ہوئے کہا جو آدمی اختلاف کو نہ سنے اس کو عالم نہ شمار کرو: مَنْ لَمْ يَسْمَعِ الِاخْتِلَافَ فَلَا تَعُدُّوهُ عَالِمًا (جامع بیان العلم وفضله، لابن عبدالبر، اثر نمبر 1521)۔ اختلاف سے مراد جھوٹی تنقید یا الزام تراشی والی باتیں نہیں ہیں۔ اختلاف سے مراد علمی اختلاف ہے۔ اور سنجیدہ علمی اختلاف اتنی قیمتی چیز ہے کہ جو حقیقی عالم ہوگا وہ اس کا حریص ہوگا نہ کہ وہ اس کو برا مانے اور اس کو بند کرنے کی کوشش کرے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page