Urdu book · دینِ انسانیت

جنگ پر بیعت نہیں

Urdu book, p. 380

By Maulana Wahiduddin Khan

کو انہوں نے اسلام بھی قبول کر لیا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سہیل کو آتے ہوئے دیکھا تو آپ مطمئن ہو گئے اور فرمایا کہ قریش نے جب سہیل کو گفت و شنید کے لیے بھیجا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ صلح چاہتے ہیں (سیرت ابن ہشام ، جلد 2، صفحہ 316)۔ حدیبیہ کے سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کامل امن پسندی کا مظاہرہ کیا۔ فریق ثانی کی اشتعال انگیزی کے باوجود آپ اشتعال نہیں ہوئے۔ ٹکراؤ کے ہر موقع سے یک طرفہ طور پر اعراض کرتے رہے۔ مثلاً دوران سفر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ قریش کا 200 سواروں کا دستہ مکہ سے روانہ ہو کر آپ کی طرف آ رہا ہے۔ آپ کو جب اس کی خبر ملی تو آپ نے اصحاب سے یہ نہیں فرمایا کہ جنگ کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ بلکہ آپ نے اپنا راستہ بدل دیا۔ اس طرح قریش کی فوج سے ٹکراؤ کی نوبت نہیں آئی۔ اپنی جماعت کے سب سے زیادہ نرم مزاج آدمی کو اس سفارت کے ساتھ بھیجا کہ ہم صلح کرنے کے لیے تیار ہیں۔ پھر جب قتل کی خبر ملی اس وقت بھی آپ نے ایسا نہیں کیا کہ خبر ملتے ہی قریش کے اوپر ٹوٹ پڑیں۔ بلکہ اپنے مقام پر ٹھہر کر لوگوں سے صرف اس بات کی بیعت لی کہ ہم یہیں جمے رہیں گے۔ قریش اگر خود سے لڑنے کے لیے آتے ہیں تو مقابلہ کریں گے۔ اور وہ صلح پر راضی ہوتے ہیں تو صلح کر لیں گے۔ خواہ یہ صلح یک طرفہ شرطوں پر کیوں نہ ہو، جیسا کہ آپ نے عملاً کیا۔ بیعت الرضوان کے باوجود صلح کر لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بیعت اصلاً جنگ کے لیے نہ تھی۔ اگر وہ جنگ کے لیے ہوتی تو ناممکن تھا کہ اس کے بعد اپنے دشمن سے یک طرفہ شرطوں پر صلح کر لیں ۔ حضرت عثمان بن عفان جب مکہ گئے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page