جنگ پر بیعت نہیں
Urdu book, p. 381
By Maulana Wahiduddin Khan
حیثیت سے وہاں گئے تھے ۔ بین الاقوامی رواج کے مطابق سفیر کا قتل اعلان جنگ کے ہم معنی ہوتا ہے ۔ جب یہ خبر ملی کہ قریش نے آپ کے سفیر کو قتل کر دیا ہے تو قدرتی طور پر آپ نے اس کا مطلب یہ سمجھا کہ قریش اب آخری طور پر آمادہ جنگ ہو چکے ہیں ، وہ کسی حال میں صلح اور امن کا معاملہ کرنے پر راضی نہیں ہیں۔ اس خبر نے وقتی طور پر صورتِ حال کو یکسر بدل دیا۔ ابتدائی صورتحال کے مطابق آپ کے سامنے صلح یا جنگ میں انتخاب ( چوائس ) کا مسئلہ تھا۔ اس وقت آپ نے جنگ کو چھوڑ کر صلح کا انتخاب فرمایا تھا۔ مگر قتلِ سفیر کی خبر نے ظاہر کیا کہ اب فرار یا جنگ میں سے کسی ایک صورت کے انتخاب ( چوائس ) کا مسئلہ درپیش ہے ۔ یعنی قریش کسی حال میں بھی صلح پر راضی نہیں ہیں۔ وہ ہر حال میں جنگ کرنا چاہتے ہیں ۔ اس وقت آپ نے اپنے اصحاب سے عدمِ فرار اور بصورتِ جارحیت دفاع کی بیعت لی۔ مگر جب معلوم ہوا کہ یہ خبر غلط تھی تو پھر دوبارہ آپ جنگ کو چھوڑ کر صلح پر راضی ہو گئے۔ حالانکہ یہ صلح آپ کو دشمن کی یک طرفہ شرطوں پر کرنی پڑی۔ بیعتِ الرضوان کا پیغام یہ ہے کہ تمہارے لیے اگر انتخاب ( چوائس ) فرار اور جنگ کے درمیان ہو تو فرار کو چھوڑ کر جنگ کا طریقہ اختیار کرو۔ اور اگر تمہارے لیے انتخاب (choice) صلح اور جنگ کے درمیان ہو تو جنگ کو چھوڑ کر صلح کا طریقہ اختیار کرو، خواہ یہ صلح فریقِ ثانی کی یک طرفہ شرائط پر ہی کیوں نہ ہو۔ مزید یہ کہ فرار کے مقابلہ میں عدمِ فرار کو اختیار کرنے کا حکم بھی مشروط حکم ہے نہ کہ مطلق حکم۔ کیونکہ حدیبیہ ( 6 ھ ) میں آپ نے فرار کے مقابلہ میں عدمِ فرار کا فیصلہ فرمایا۔ مگر اس سے پہلے مکہ ( 1 ھ ) میں اسی طرح کی صورتِ حال میں آپ نے وہاں سے ہجرت فرمائی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader