صبر کی اہمیت
Urdu book, p. 382
By Maulana Wahiduddin Khan
صبر کی اہمیت حدیبیہ دراصل عدم ٹکراؤ کی پالیسی کا دوسرا نام ہے۔ اسی پالیسی کا نام صبر ہے۔ اسلام میں صبر کی بے حد اہمیت ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کو صبر سے زیادہ بہتر اور کشادہ عطیہ نہیں دیا گیا: وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْراً وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ (صحيح البخاری، حدیث نمبر 1481)۔ صبر کی اہمیت اور افضلیت کے بارے میں اس قسم کے بہت سے اقوال رسول حدیث کی کتابوں میں آئے ہیں۔ مثال کے طور پر مسند احمد میں روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں تمہارے لیے صبر سے زیادہ کشادہ رزق اور کوئی نہیں پاتا: وَمَا أَجَدُ لَكُمْ رِزْقاً أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ (مسند احمد، حدیث نمبر 11091)۔ ان حدیثوں میں صبر کورزق اور عطیہ کہا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ صبر کوئی سلبی چیز نہیں ہے، بلکہ وہ ایجابی چیز ہے۔ صبر محرومی نہیں ہے بلکہ یافت ہے۔ صبر بے عملی نہیں ہے بلکہ وہ سب سے بڑا عمل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر پیغمبرانہ عمل (prophetic activism) یا اسلامی عمل (Islamic activism) کی اصل بنیاد ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا طریق کار تمام تر صبر کے اصول پر مبنی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو جو قرآن دیا گیا وہ پورا کا پورا " کتاب صبر" ہے۔ جن آیتوں میں صبر کی براہ راست تعلیم دی گئی ہے، ان کا صبر کی آیت ہونا واضح ہے۔ لیکن غور کیجیے تو بقیہ قرآنی آیتیں بھی بالواسطہ طور پر صبر ہی کی آیتیں ہیں۔ مثلاً: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (96:1) عین صبر کی آیت ہے۔ یعنی، پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ کیونکہ ماحول کی اشتعال انگیزیوں پر صبر کے بغیر اقرا کا عمل نہیں کیا جا سکتا۔ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ (1:2) میں صبر کا لفظ نہیں مگر وہ عین صبر کی آیت ہے۔ کیونکہ نقصان اور محرومی پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader